صف دشمناں کو خبر کرو

1

16دسمبر 2014۔۔۔
وہ دن جسے ایک قومی سانحے کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے۔ جس دن نجانے کتنی ماؤں کی گودیں اجڑ گئیں، نجانے کتنی بہنوں کی ردائیں چھن گئیں اور نجانے کتنے باپ اپنا نام کھو بیٹھے۔ لیکن نہ تو آسمان سے لہو برسا اور نہ پرندے درختوں پر ماتم کناں ہوئے۔
آخر کیوں؟
کیونکہ یہ سانحہ اس پاک دھرتی پر پیش آیا جہاں گلشن کے تحفظ کی قسمیں کھانے والے گلوں کی آبیاری لہو سے کرتے ہیں۔ یہ وہ چمن ہے جسے شہیدوں کے خون سے سینچا گیا ہے۔ جس کی بنیادوں میں لاکھوں شہداء کا خون ہے۔ جس وطن کے بچے بچے نے یہ قسم کھا رکھی ہے خونِ دل دے کے نکھاریں گے رخ برگ گلاب
ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے

بزدل دشمن نے بھلا معصوم بچوں پر ہی حملہ کیوں کیا؟ اور پھر آرمی پبلک کے بچوں پر ہی کیوں؟
کیوں کہ افواج کے شیر دل جوانوں نے ہمیشہ دشمن کی نیندیں حرام کی ہیں خواہ وہ 1965ء کی جنگ ہو یا 1999ء کی۔ آپریشن ضرب عضب کی آگ تو گویا دشمن کے سر پر لگی اور تلووں پر بجھی۔ تو اب دشمن کو آنکھوں میں جذبوں کی چمک لیے اور دل میں دھرتی کی محبت لیے یہ بچے مستقبل کے ایم ایم عالم، عزیز بھٹی اور عبد المعید نظر آرہے تھے جو انھیں کسی طور ہضم نہ ہو رہا تھا۔ مگر کم عقل دشمن اس بات سے بے خبر تھا کہ یہ دھرتی وہ دھرتی ہے جہاں مائیں اس دعا اور نیت کے ساتھ بیٹے جنتی ہیں کہ وہ وطن عزیز پر قربان ہوں، بہنیں اپنے بھائیوں کے جسد خاکی پر پھول نچھاور کرتی ہیں اور باپ اپنے شہید بیٹوں کو سیلوٹ پیش کرتے ہی۔ جس وطن کا بچہ بچہ شہادت کے جذبے سے لبریز ہے جہاں آرمی پبلک سکول میں دشت گردی    کے اس گھناؤنے واقعے کے بعد طالبعلموں کی تعداد میں کمی کی بجائے اضافہ ہوتا ہے۔ جہاں مائیں اپنے شہید بیٹوں کو گلے لگا کر کہتی ہیں
آ تیری مانگ میں چاند تارے بھروں
تجھ کو دولہا بنا کر میں رخصت کروں
سر پہ سہرے کے بدلے کفن باندھ دوں
جرأت و عزم تیری سواری رہے
جنگ جاری رہے جنگ جاری رہے

یہ دھرتی وہ دھرتی ہے جسے دین اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا اور اس وطن سے محبت رکھنے والے جذبہ ایمان سے اس قدر سرشار ہیں کہ دشمن کے قبضے میں ہونے کے باوجود نسل در نسل کٹتے تو ہیں مگر جھکتے نہیں، جان دیتے ہیں مگر بکتے نہیں۔ جہاں کمسن بچے دشمن کی بندوق کا مقابلہ غلیل سے کرتے ہیں اور بہادر بہنیں اور بیٹیاں مہندی والے ہاتھوں میں پتھر لے کر میدان جنگ میں جہاد میں سر گرم عمل ہیں۔ اس وطن کے اک اک سپاہی کا صف دشمناں کو یہ واضح پیغام ہے کہ
توحید کی امانت سینوں میں ہے ہمارے
آساں نہیں مٹانا نام و نشان ہمارا
باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم
سو بار کرچکا ہے تو امتحاں ہمارا

Comments

comments

Discussion1 Comment

Leave A Reply