قائد کا پاکستان

0

قارئین ا کرام آج ہمارے لئے چند لفظوں میں تحریک آزادی پاکستان کا ذکر کرنا اور ان گراں قدر قربانیوں کو نپے تلے الفاظ میں بیان کرنا بے حد آسان ہے۔ لیکن آزادی کے حصول کیلئے جو جو بھی قربانیاں دی گٸیں اگر ان تمام واقعات کو خدانخواستہ ہمیں جھیلنا پڑے تو ہم زندہ لاشیں بن جائیں یا ان واقعات کو دہرانے کے لئے باقی ہی نہیں بچیں گے۔
آزادی کے  ان خوابوں اور ان کےحصول کے لئے کی گئی ان تھک محنت کا ذکر بھی چند لفظوں کی ادائیگی سےچنداں بیان نہیں ہو سکتا۔ پاکستان جسے علامہ اقبال کا خواب کہا جاتا ہے وہ صرف ان کا ہی نہیں بلکہ ہر مسلمان کا خواب تھا جسے زبان سے بیان تو  اقبال نے کیا۔ لیکن وہ خواب برصغیر کے پریشان حال مسلمانوں کی آنکھوں میں بس کے ان کی نیندیں اڑا چکا تھا۔ وہ خواب جو ان کے دلوں کی دھڑکن بن چکا تھا۔ الہ آباد میں خطبہ دیتے ہوئے علامہ اقبال نے ان تمام علاقوں کو پاکستان کا نام دیا جو ماسوائے کشمیر کے آج پاکستان کا حصہ ہیں۔ قائد اعظم نے برصغیر پاک و ہند کے تمام مسلمانوں کی قیادت امت مسلمہ کے شاندار سپہ سالار کی طرح سنبھالی اور آزادی کے حصول کے لئے ایڑی ی چوٹی کا زور لگا دیا۔
مسلمانوں کے لئے الگ آزاد وطن حاصل کرنے کا مقصد صرف الگ حکومت بنانا نہیں تھا بلکہ اس کا مقصد  مسلمانوں کو ان کی مذہبی آزادی کا بنیادی حق دلانا اور ایسی جگہ کا حصول تھا جہاں اسلامی اصولوں اور قوانین کی پابندی و پاسداری کرنا ممکن ہو ۔

آزادی اللّٰه پاک کی عطا کردہ تمام نعمتوں کی طرح بیش قیمتی اور عظیم نعمت ہے۔ 

زندہ قومیں اپنی آزادی کا جشن ہمیشہ جوش وجذبے اور نہایت عقیدت و احترام سے مناتی ہیں۔

پاکستان ١٤ اگست ١٩٤٧ ، ٢٧ رمضان المبارک١٣٦٦ بروز جمعرات تمام دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈالنے کے لئے معرض وجود میں آیا۔ پاکستان صرف مسلمانوں کیلئے خاص  اللّٰه پاک کا انعام ہی نہیں ہے بلکہ اس خطۂ سرزمین پہ جو اہم معرکے  مستقبل قریب میں انجام پانے والے ہیں ان سب  کے ظہور کا تعلق اس مملکت خداداد کے وجود میں آنے کے بعد ہی ممکن تھا۔  جو اسلام دشمن عناصر اس ملک کے وجود میں آنے سے غیض و غضب  میں تلملا ریے تھے اور جن کے دلوں کی آگ تا حال دہک رہی ہے عنقریب   ان شاء اللّٰه ان  دشمنان اسلام کو منہ کی کھانا پڑے گی۔ انہی ممکنہ خدشات کے سبب سے ملک دشمن عناصر  نا صرف اس ملک کی دھجیاں اڑانے کے خواب دیکھتے ہیں بلکہ دن رات اسی تگ و دو میں لگے رہتے ہیں کہ کس طرح اس ملک کو نقصان پہنچائیں ۔
چند اندرونی شر پسند ، فتنہ پرداز عناصر نے اس ضمن میں بے وقعت اور حقیر سرمائے کے بدلے ان بیرونی طاقتوں  کی حتی الامکان مدد کر کے پاک سرزمین کو خاصا نقصان پہنچایا ہے۔ لیکن جس خداوند تعالیٰ نے اس ملک کو خاص مقصد سے بے پناہ مخالفتوں اور سازشوں کے باوجود دنیا کے نقشے پر بہترین صورت میں ابھارا ہے وہی اس کا محافظ اور حامی و ناصر ہے۔ لہذا ان اندرونی اور بیرونی قوتوں کی  سر توڑ کوششوں کے باوجود ان کی سازشیں ہمیشہ ناکام ہوئیں ۔ چاہے وہ کوشش پاکستان کو ایک دہشتگرد ملک ثابت کر کے باقی دنیا سے الگ کرنا ہو یا دہشتگردی کا نشانہ بنا کر وطن عزیز کا امن تباہ کرنا ہو۔ خواہ وہ ملک کو مقروض کرنا ہو یا اسے بلیک لسٹ کرنے کی سازش ہو یا بارڈر پر معصوم لوگوں کو نشانہ بنانا ہو۔ کلبھوشن جیسے جاسوس بھیج کر سازشیں رچانا ہوں یا پھر کشمیریوں کو ستا کر  مسلمانوں کی دکھتی رگ پہ جلتے انگارے پھینکنے ہوں۔
 اللّٰه سبحان و تعالی کی شان اس نے ہماری فوج کو ایمان کی وہ قوت بخشی ہے جو کسی دوسری فوج کے پاس نہیں ہے۔ دنیا پاک فوج کی قابلیت اور جرأت مندی کے سامنے سر تسلیم خم کرنے پر مجبور ہے۔
 اللّٰه کے حکم سےپاکستان ایک ایٹمی قوت ہے اور جلد یا بدیر پاکستان  ان شاء اللّٰه دنیا کی بہت بڑی  طاقت بن کر ابھرنے والا ہے۔ 
ہم سب کو بحیثیت ایک اچھے پاکستانی شہری کے اپنے ملک کی ترقی وخوشحالی کے لئے حکومت اور فوج کا اس نازک دور میں بھر پور ساتھ دینا چاہیٸے۔
گو  کہ اس وقت ملک و قوم کو بے حد مشکلات کا سامنا ہے۔ لیکن ہمیں زندہ قوم کی طرح اس مشکل دور کا سامنا عزم و استقلال اور بہادری سے کرنا ہو گا۔ 

اندھیری رات ہے لیکن اے دوستو
کبھی رات ہمیشہ بھی رہی ہے؟
مانا کے سفر بھی کٹھن بہت ہے 
مگر کیا منزل کبھی رکنے سے ملی ہے؟
مانا کے حوصلہ بہت چاہیے آگے بڑھنے کو
مگر سوچیٸے تو آخر ، کیا ہم میں کمی ہے؟
نہیں جھکتے نہیں بکتے اس قوم کے سپاہی
ایمان کی قوت سے ہر فرد دھنی ہے
اپنے حصے کی قندیل روشن کریں گے
کہر میلوں تک بھلے ہی چھائی ہوئی ہے
ہر فرد ملت کے مقدر کا ستارہ ہے
ضرورت خودی کو پہچاننے کی ہے
اٹھو اور بدل دو تقدیر اس زمیں کی
کوشش سے ہی بدلی جب تقدیر  بدلی ہے 

اب جب کہ مشرقی سرحد پر حالات کافی کشیدہ ہیں اور فوج کا مقابلہ اندرونی اور بیرونی طاقتوں سے ہمہ وقت جاری ہے اس وقت ملک کے ایک ایک فرد کے لئے اپنا کردار ادا کرنا بے حد ضروری ہے۔
آئیں اس یوم آزادی پر مل کر ہم سب ہم وطن یہ عہد کریں کہ ہم باہمی رنجشیں بھلا کر تمام صوبائی ،علاقائی ، لسانی اور سیاسی تعصبات کو فراموش کر کے اس پاک وطن پر اسلامی قوانین کے نفاذ اور اس سرزمین کی حفاظت  کی خاطر یک جان ہو کر جان ، مال اور  علمی طریقے سے لڑیں گے ۔ ہر میدان میں وطن کو آگے لے جانے کے لیٸے اپنا اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔  ان شاء اللّٰه ہم پاکستان پر اللّٰه کی مدد اور حکم سےکبھی کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔ اور علامہ اقبال اور قائداعظم نے جس مقصد کے لئے اس وطن کا خواب دیکھا اور اس کو حاصل کیا وہ مقصد ہم پورا کرکے دم لیں گے۔

پاکستان زندہ باد 
قائد اعظم پائندہ باد
پاک فوج زندہ باد

Comments

comments

No tags for this post.

Leave A Reply