پی اہچ ڈی کی ڈگریاں اور ریوڑیاں‎

0

PHD 

پی اہچ ڈی کی ڈگریاں اور ریوڑیاں ہر طرح سے دو مختلف چیزیں ہیں جن میں قطعی کوئی مماثلت نہیں۔ لیکن ان دونوں چیزوں کی کنڈلیاں ملانے میں اگر کسی کو ملکہ حاصل ہے تو وہ ہے ہمارا پاکستانی نظام!

ہم نے ریوڑیوں کا ذکر بچپن میں اردو کی کتابوں میں پڑھا، سنا اور دیکھا تھا۔ تلاشِ بسیار کے بعد جان پائے کہ ریوڑی کھانے کی کوئی میٹھی چیز ہوتی ہے جسے محاورے کے لحاظ سے اندھے بانٹتے ہیں اور گھوم پھر کر اپنوں کو ہی دیتے ہیں۔ اول تو چیں بہ جبیں ہم اس بات پر ہوتے تھے کہ بھلا اندھے کیونکر بانٹ سکتے ہیں؟ اور اگر بالفرض بانٹتے بھی ہیں تو اقربا پروری کا جذبہ آخر ان میں اس حد تک کیوں پایا جاتا ہے؟ بہرحال یہ سطر بذاتِ خود تحقیق کی متقاضی ہے اور ہم چونکہ اس سے اس قدر آشنائی کے خواہاں نہیں۔۔۔۔ نہ ہم نے اس کا دامن پہلے کبھی پکڑا، نہ اب پکڑنے کے متمنی ہیں۔ لہذا اسے ہم کفار، ہمارا مطلب ہے اہلِ مغرب کے لیے ہی چھوڑتے ہیں۔ اگر ہمیں اس کے کسی جز سے شغف ہے بھی تو وہ ہے تحقیقی ڈگریاں بانٹنے سے، جو ہم ریوڑیوں کی صورت میں بانٹتے ہیں، اور معذرت کےساتھ اندھوں کی طرح ہی!

سالِ گذشتہ، اور پھر اس سے بھی گذشتہ سال اور پھر اس سے بھی گذشتہ کسی سال میں شہابِ ثاقب دندناتا ہوا اس وقت گرا جب ہمارے وزیرِ داخلہ وخارجہ عبدالرحمان الملک کو ڈاکٹریٹ کی اعلٰی ڈگری سے مفت میں نوازا گیا۔ اگر ڈگری صرف ڈاکٹریٹ کی ہوتی تو اس سوال کا امکان تھا کہ بھلا کس قسم کے ڈاکٹر؟ انسانوں کے یا۔۔۔؟؟ لیکن ڈگری دیتے ہوئے ہاتھوں میں جب شہرِ کراچی کی ایک بڑی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے دستِ اقدس کو پایا تو فرطِ جذبات سے بے ساختہ دانتوں میں انگلیاں داب لیں۔ حسنِ یوسف کو دیکھ کر مصر میں اگر انگشتِ زناں کٹی تھیں تو یہآں اس دلخراش منظر پر ہم سراپا انگشت بدنداں تھے۔

پاکستان میں تعلیمی معیار پر موجود سوالیہ نشان وقت کے ساتھ ساتھ کسی کالی اندھیری رات کی طرح گہرا سے گہرا تر ہوتا چلا جارہا ہے، اور ایسے میں ڈگریوں کی بارش کی صورت میں یہ التفات، اندھیری رات میں پھلجڑی اور آتش بازی کے مثل ہے۔ سنتے تھے کہ پاکستان کے ڈگری ہولڈر طلبہ کی بیرونی دنیا میں کوئی قدر نہیں، ہم سے پوچھیں تو اس قسم کے ڈاکٹروں کی ہونی بھی نہیں چاہیے۔ وہ کیا ہے کہ ساری رات لیلٰی و مجنوں کا قصہ سنا مگر صبح کمالِ معصومیت سے پوچھ بیٹھے کہ لیلٰی مرد تھی یا عورت؟ بالکل ایسے ہی جنھیں بار بار دہرانے پر بھی سورۂ اخلاص یاد آکر نہ دی، انھیں پی۔ ایچ۔ ڈی کی ڈگری تھما دی؟ آ عندلیب مل کر کریں آہ وزاریاں!! ستم بالائے ستم بالائے ستم ہماری ایک حسین شام، اس وقت خون آشوب شام میں تبدیل ہوگئی جب ہم نے وزیرِ اعظم کا محترم چہرہ ایک عدد مخصوص ٹوپی کے نیچے ملاحظہ فرمایا۔ غور کرنے پر پوری خبر نظر آئی کہ جہاں موصوف نے تحصیلِ علم کا معرکہ انجام دیا ہے وہاں کے اعلٰی عہدیداران نے انگلی کٹوا کر شہیدوں میں نام لکھوانے یعنی وزیرِ اعظم کی ‘گڈ بک’ میں آنے کے لیے وزیرِ موصوف کو بھی ایک عدد ڈگری سے شرافت کے ساتھ نواز دیا ہے۔

آخر یہ اعزاز انھیں کس سلسلے میں دیا گیا؟ یہ سوال ایک داستان کا محتاج ہے۔ ہم نے سنا تھا کہ اس ڈگری کے حصول کے لیے امیدواروں کا جمِ غفیر انٹری ٹیسٹ کے لیے حاضر ہوتا ہے مگر اکثریت کو سندِ قبولیت اس لیے نہیں بخشی جاتی کہ اگر ان کو ڈگری دے دی جائے گی تو رحمن ملک ونواز شریف جیسوں کو دینے کے لیے ڈگری کہاں سے لائیں گے؟؟ کاغذ ویسے ہی بڑا مہنگا ہے۔ اور نوجوانوں کا کیا ہے، انہیں تو اعلٰی ڈگری لے کر بھی مارے مارے پھرنا ہے۔ بہت بہت ہوا تو ہیروئین کے نشے میں چور، سڑک کے کنارے کسی نالے میں گرے ہوئے پائے جائیں گے یا پھر کسی جوئے خانے میں ساری جمع پونجی لٹا کر خودکشی کر لیں گے۔ اگر بالفرض کسی کی قسمت نے یاوری کر دی تو دس بارہ شادیاں بھگتا لیں گے۔

پچھلے دنوں کی بات ہے کہ ملک کا مجموعی لیٹریسی ریٹ بڑھانے کے چکر میں سنا ہے وزیرِ اعلی سندھ کو بھی اعزازی ڈگری سے نوازا گیا ہے اور ابھی اس کا غم ہم پوری طرح منا بھی نہ پائے تھے کہ آج علی الصباح اخبار جو اٹھایا تو چھوٹے سے ایک خانے میں سعودی فرمانروا کی تصویر اور ساتھ جڑی خبر نے گویا اس غم کو دو آتشہ کردیا۔۔۔۔ اسلام آباد کی ایک یونیورسٹی نے شاید اسے اسلام کی خدمت سمجھتے ہوئے، انھیں بھی ایک عدد اعزازی ڈگری سے سرفراز فرمایا ہے۔ بلاشبہ یہ فیشن تعلیمی اساس کو مزید کمزور کرنے کا باعث بنے گا۔

قصہ مختصر، میرے ہم وطنو! اردو ہماری مادری زبان ہے۔ ہمیں کبھی اس کے پرچے میں کسی قسم کی دقت کا سامنا نہیں ہوا۔ ۔ اکثر ہم نے سو میں سے اڑھائی سو نمبر حاصل کیے مگر اس ایک محاورے کو ہم نے ہمیشہ “چوائس” میں چھوڑا کہ کبھی ہم اس کے مطالب و مقاصد سمجھ ہی نہیں پائے۔ البتہ اب، ان اوپر تلے کے پے در پے واقعات نے پوری جزئیات کے ساتھ سمجھادیا کہ ۔ ۔ اندھا بانٹے ریوڑیاں، ہیر پھر کے اپنوں ہی کو دے!

Comments

comments

Leave A Reply