رائیگاں نہ جائے کبھی، لہو ہمارے شہیدوں کا

0

پاکستان کے جنوب مغربی علاقے میں رقبے کے اعتبار سے سب سے بڑا صوبہ ، بلوچستان واقع ہے۔ اس صوبے کی معیشت کا انحصار زیادہ تر اس علاقے سے نکلنے والی معدنیات اور قدرتی گیس پر ہے۔  بحیرہ عرب کے ساحل پر واقع گوادر پورٹ بھی بلوچستان کی اقتصادی ،جیو پولیٹیکل اور جیو اسٹریٹیجک اہمیت میں اضافے کا باعث سمجھی جاتی ہے۔  اور بلوچستان کی یہی تزویراتی اہمیت ہے جو پاکستان کے دشمنوں کی آنکھوں میں کھٹک رہی ہے اور اس کا اظہار وہ بلوچستان لبریشن آرمی( بی ایل اے) اور بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) جیسی دہشت گرد تنطیموں کی پشت پناہی کے ذریعے کر رہے ہیں۔

بی ایل اے پاکستان میں منظرِعام پراس وقت آئی جب 2000ء میں اس نے پاکستانی اعلیٰ عہدیداران پر حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ پاکستان نے اپریل 2006ء میں بی ایل اے کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا اور پاکستان کی پیروی کرتے ہوئے حکومتِ برطانیہ نے جولائی سنہ 2006ء میں اسے ‘ٹیررازم ایکٹ 2000′ کے تحت کالعدم قرار دیا۔ مگر حکومت برطانیہ کے اقدامات میں اس وقت تضاد نظر آیا جب اُس نے حربیار مری کو سرکاری پناہ دی، جو کہ کالعدم تنظیم بی ایل اے کے راہنما ہیں، اس تنظیم کے راہنما جس کے  اقدامات کو امریکہ کے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے بھی کھلم کھلا “دہشت گردی” قرار دیا ہوا ہے ۔ مگر پھر بھی نہ جانے کیوں ابھی تک بی ایل اے کو باقاعدہ طور پر امریکہ، یورپی یونین اور بھارت کی جانب سے’ دہشت گرد تنظیم ‘ قرار نہیں دیا گیا۔ یہ عالمی منافقت بظاہر سمجھ سے بالا تر لگتی ہے مگر اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ اس کی کڑیاں ان ممالک کے قومی مفادات سے منسلک ہیں۔

روز اول سے ہی پاکستان کا بحیثیت ریاست یہ مؤقف رہا ہے کہ  بی ایل اے اور بی ایل ایف بھارتی پراکسیز ہیں جنہیں افغانستان کے شہروں جلال آباد اور قندھار میں واقع بھارتی کنسلیٹ سے کنٹرول کیا جا رہا ہے۔ اور یہ بھارتی کونسلیٹس ہی دہشت گردوں کو تربیت، اسلحہ و بارود اور فنڈز فراہم کرتے ہیں تاکہ پاکستان کا امن غارت کیا جا سکے۔ اس کا ثبوت(2013ءمیں) زیارت/ کوئٹہ میں واقع حضرت قائد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ علیہ کی (تاریخی اہمیت کی حامل) رہائش گاہ پر بی ایل اے کی جانب سے راکٹ حملے کی صورت میں بخوبی ملتا ہے جہاں پاکستان کے پرچم کی جگہ بی ایل اے کا پرچم لہرا دیا گیا۔ یہاں یہ سوال ضرور جنم لیتا ہے کہ پاکستان کے قومی پرچم سے پاکستان کے دیرینہ دشمن کے علاوہ اور کس کو مسئلہ ہو سکتا ہے؟

اس کے علاوہ جن دہشت گردانہ کارروائیوں کا سہرا بی ایل اے کے سر ہے ان میں 2005ء میں جنرل مشرف کی  بلوچستان کے ضلع کوہلو میں آمد پر پیرا ملٹری کیمپ پر راکٹ حملہ، اور سینکڑوں فوجی، ایف سی اور پولیس اہکاروں کا اغواء اور بہیمانہ قتل شامل ہے۔  سونے پے سہاگہ بلوچستان لبریشن فرنٹ(بی ایل ایف) کے ترجمان گہرام بلوچ کے مطابق بی ایل اے اور بی ایل ایف  کی قیادتیں بلوچستان میں ریاست کے خلاف اشتراک عمل کے فارمولے کو اپنانے پر رضامند ہو چکی ہیں۔ جس کے فوراً بعد ایک بار پھر بلوچستان میں

ٹیرر ویو( دہشت گردانہ سرگرمیوں کی نئی لہر) دیکھنے میں آئی ۔ جس میں گزشتہ سال (2017ء) کے آخر میں ڈیرہ بگٹی کے علاقے میں بارودی سرنگ  کے دھماکے کے نتیجے میں خواتین اور معصوم بچوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اور سوشل میڈیا پر ان معصوم بچوں کی دل دہلا دینے والی تصاویر جب وائرل ہوئیں تو ان بلوچ انسرجنٹس کی ‘محرومیوں اور پسماندگی کے نام نہاد نعروں’ کی آڑ میں رچائے جانے والے گھناؤنے کھیل کی قلعی کھل کر سب کے سامنے آگئی۔

اس سے قبل بلوچستان کے ضلع تربت میں نہایت دلخراش واقعہ پیش آیا۔ جب بیرون ملک نوکریوں کا جھانسہ دے کر پنجاب کے مختلف شہروں سےلائے گئے 15 نوجوانوں کو انسانی اسمگلرغیر قانونی طور پر ایران کے باڈر پر لے جارہے تھے کہ گروک کے پہاڑی علاقے میں بی ایل ایف کے مسلح افراد نے انہیں گاڑیوں سے اتار کر قتل کر دیا۔ المختصر، پورے بلوچستان میں تقریباً ڈیرھ دہائی سے بی ایل اے اور بی ایل ایف بھارتی ایجنسی راء کی ایما پر پاکستان دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہے مگر اب پاک فوج اورایف سی بلوچستان کی انتھک کاوشوں اور بیش بہا قربانیوں کی بدولت اس کی کمر ٹوٹتی دکھائی دے رہی ہے۔  جس کا ثبوت  وہاں کے حالات میں واضح تبدیلی ہے۔

بلوچستان میں وطن کی حرمت پرمرمٹنے والوں میں فرنٹیئرکور (ایف سی بلو چستان) کے 128 ونگ سے تعلق رکھنے والے24 سالہ لانس نائیک امتیاز حسین شہید بھی شامل ہیں۔ جو کہ ڈیرہ غازی خان کے ایک پسماندہ گاؤں ‘مبارک کوٹ’  کے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے ایک گھرانے( بیمار ماں باپ اور دو چھوٹے بھائیوں) کا واحد سہارا تھے۔ لانس نائیک امتیاز بہت خاموش طبعیت کے مالک تھے، ان کے کمپنی میٹس اور روم میٹس انہیں آج بھی ایک بہادر، حوصلہ مند اور پروفیشنل سپاہی کے طور پر یاد کرتے ہیں جن کی زندگی بھی شوقِ شہادت سے لبریز تھی۔ 5 اکتوبر 2017ء کی صبح لانس نائیک امتیاز آواران کی تحصیل جھل جھاؤ(بلوچستان) میں معمول کے مطابق روڈ کلئیرنس پارٹی کے ہمراہ اپنے فرائض منصبی کی انجام دہی میں مصروف تھے، کہ جیسے ہی وہ اپنی موٹر سائیکل سے اترے تو  سڑک کی  دوسری جانب بی ایل ایف کے تقریباً پندرہ سے زائد  دہشت گرد گھات لگائے بیٹھے تھے جن کی گولیوں کا وہ نشانہ بن گئے اور انہوں نے جام شہادت نوش کیا۔

امتیاز شہید کے ایک قریبی ساتھی نے بتایا کہ انہوں نے امتیاز سے پوچھا،’ کہ آپ کی ایک چھٹی رہتی ہے کب جائیں گے گھر؟تو انہوں نے جواب دیا کہ ، میں کچھ ماہ کی تنخواہ جمع کر کے گھر جاؤں گا کیونکہ مجھے اپنے عمر رسیدہ اور بیمار والد کا علاج بھی کروانا ہے اورمیری شادی کی بھی بات چیت چل رہی ہے’۔ بلا شبہ امتیاز شہید آج بھی زندہ ہیں بلکہ وہ دوستوں اور ساتھیوں کے لئے نہ صرف باعثِ تقلید ہیں بلکہ انہوں نے ان کے اذہان میں ایسے نقوش چھوڑے ہیں جو وقت کے ساتھ بھی کبھی مندمل نہیں ہو پائیں گے۔
پاکستان کے ایسے نجانے کتنے امتیاز اور ہونگے جن کی کہانیوں اور ناموں تک ہماری رسائی ممکن نہیں مگر انہیں ہم سب پر امتیازضرور حاصل  ہے کیونکہ وہ محض ہمارے اور ہماری آنے والی نسلوں کے روشن کل کے لئے اپنے خوبصورت آج کو قربان گئے۔ اس لئے اپنے ان حقیقی محسنوں اور ان کے گھرانوں کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھئیے کیونکہ وہ صرف آپ سے تسلی کے دو بول کی توقع رکھتے ہیں اس سے زیادہ کچھ نہیں۔

Comments

comments

is a research scholar/poetess and she has a keen interest in counter- terrorism narrative, national security ,and Indo-Pak relations.

Leave A Reply