دہشت گردی کے خلاف پُرعزم پاکستان

0
بلوچستان وہ علاقہ ہے جہاں آئے روز دہشت گردی کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں اور جس کے پس پردہ یقینی طور پرملک دشمن خفیہ اداروں کا ہاتھ ہے۔ مگراس میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز امن و امان کی بحالی کے لئے بے دریغ قربانیاں دے رہی ہیں۔ جس کا اندازہ اس سے بخوبی ہوتا ہے کہ سال 2018ء کے آغاز سےابھی تک صرف کوئٹہ میں 37 سے زائد سیکیورٹی اہلکار شہید ہوچکے ہیں۔ اسی لئے ہمیں کسی بھی صورتحال میں دشمن کے پروپیگنڈے پر کان دھرنے کی بجائے اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر دشمن کی طرف سے لانچ کی گئی تقسیم کی کوششوں کو اپنے اتحاد ویکجہتی کی قوت سے شکست دینے کی اشد ضرورت ہے۔ اور ہمیں اب اپنی تمام تر توانائیاں اپنے معاشرے اور اپنے گرد و نواح میں ایسے عناصر کو تلاش کرنے میں صرف کرنا ہوں گی جو وردی میں ملبوس ہمارے محافظوں اور ہمارے بیچ دراڑ ڈالنے میں ملوث ہیں، تبھی ہم عراق، شام، لیبیا جیسے خطرناک فارمولے کا تدارک کر سکیں گے جو انہیں توڑنے کے لئے پہلے ان پر مسلط کیا گیا اور اب اس کا استعمال پاکستان کے خلاف کیا جا رہا ہےتاکہ اسے بھی خدا نخواستہ غیر مستحکم کیا جا سکے۔
 گزشتہ کئی سالوں سے کوئٹہ میں فقہ جعفریہ سے تعلق رکھنے والی ھزارہ برادری شرپسندوں کے نشانے پر ہے۔ اور انہیں چن چن کر مارا جا رہا ہے۔ انہوں نے جو اپنے سینکڑوں اپنوں کو کھویا کوئی بھی چیزاس کا ہرگز نعم البدل نہیں ہو سکتی مگر سپہ سالار پاکستان جنرل باجوہ نے ان کے پیاروں کو نشانہ بنانے والوں کو نہ صرف عبرت ناک سزائیں دینے کی یقین دہانی کرائی بلکہ ان کے مکمل تحفظ کے عزم کا بھی اعادہ کیا جب وہ 2 مئی 2018ء کو اپنے پیاروں کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف غیر معینہ مدت تک احتجاج کر رہے تھے جو بعد ازاں جنرل باجوہ سے ان کی ملاقات کے بعد ختم ہو گیا تھا۔ اور اس کے بعد کوئٹہ میں لشکر جھنگوی کے گرد سیکیورٹی فورسز نے اپنا گھیرا مزید تنگ کرنا شروع کیا۔
توجہ طلب امر یہ ہے کہ پاکستان میں فرقہ ورانہ نوعیت کے تشدد کا رواج ڈالنے والی شرپسند تنظیموں میں لشکر جھنگوی سر فہرست ہے، یہ ایک اینٹی شیعہ تنظیم ہے جس کے ہدف پر پاکستانی شیعہ مسلمان اسّی کی دہائی سے ہیں اورسنہ2013ء میں اسی تنظیم نے متعدد بم دھماکوں کےذریعے دو سو سے زائد ھزارہ شیعہ مسلمانوں کو کوئٹہ میں شہید کیا ۔ یہ انتہائی خطرناک دہشت گرد تنظیم سمجھی جاتی ہے جس کے مراسم متعدد مقامی اور بین الاقوامی شرپسند تنظیموں سے بھی ہیں جن میں سپاہ صحابہ پاکستان، جیش محمد، حرکت المجاہدین، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان،القاعدہ اور جند اللہ گروپ  کے علاوہ داعش شامل ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ پاکستانی حکومت نے2002ء میں اپنی تحقیقات کے نتیجے میں یہ انکشاف بھی کیا تھا کہ لشکر جھنگوی کے جنگجو افغان طالبان کے ہمراہ افغان نادرن الائنس کے خلاف بھی لڑتے رہے ہیں اور یہ وہاں القاعدہ جیسی عالمی شہرت یافتہ شرپنسد تنظیم سے تربیت لیتے تھے۔
 مگرسنہ2001ء میں پاکستان نےلشکر جھنگوی پر کُلی طور پر پابندی لگا دی تھی کیونکہ یہ شیعہ مسلمانوں کو کافر سمجھ کر ان کو نشانہ بنا رہی تھی۔ تاہم کچھ تجزیہ نگاروں کی نظر میں لشکر جھنگوی کا ہی نام پنجابی طالبان ہے جو پاکستان کے جنوبی پنجاب کے علاقے میں سرگرم ہیں۔ اور اس کے ذیلی گروپس میں جنداللہ، ایشین ٹائگرز، جنود الحفضہ وغیرہ سمجھے جاتے ہیں۔ اور یوں کالعدم ہونے کے باوجود متعدد گروپس کی صورت میں بکھرے ہوئے سیلز ہی اب اس کی حیات نو کا راز ہیں، واضح رہے کہ یہ ایک مثالی گوریلا جنگ اور شہری دہشت گردی کی تکنیک ہے۔
لہٰذا لشکر جھنگوی کی اینٹی ھزارہ شیعہ کارروائیوں کو نکیل ڈالنے کے لئے17 مئی کی شب خفیہ اداروں کی اطلاع پر (کلی الماس) کوئٹہ میں آپریشن کیا گیا جس میں لشکر جھنگوی بلوچستان کے سربراہ سلمان بدینی  سمیت تین دہشت گرد ہلاک ہوئے ان میں دو خود کش بمبار بھی شامل تھے، ہلاک شدہ دہشت گردھزارہ کمیونٹی کے سو سے زائد افراد اور متعدد پولیس اہلکاروں کے قتل میں ملوث تھے۔ اس آپریشن میں ملٹری انٹیلی جنس کے کرنل سہیل عابد اور پولیس کے ہیڈ کانسٹیبل ثناء اللہ شہید اور سیکیورٹی فورسز کےدیگر 3 جوان زخمی ہوئے۔
شہید کرنل سہیل عابد نوے پی ایم اے لانگ کورس سے تعلق رکھنے والے پاک فوج کے انتہائی سینئر افسر تھے جو کہ بلوچستان کے کچے کے علاقے میں آپریشن ردالفساد کے انچارچ تھے اور انہوں نے رضاکارانہ طور پر اس آپریشن کی قیادت کی ذمہ داری سنبھالی، اگر وہ چاہتے تو وہ اس کی صرف نگرانی بھی کر سکتے تھے۔ بلاشبہ کرنل سہیل عابد کی یہ بے لوث احساس ذمہ داری اور جذبہ حب الوطنی پاک فوج کی اعلیٰ پیشہ ورانہ روایات کی عکاس ہے۔ علاوہ ازیں، کرنل سہیل عباسی کا تعلق وہاڑی کے ایک ایسے شہداء کے گھرانے سے تھا جو ان سے قبل بھی متعدد بار اپنے بیٹوں کا لہو پیش کر کے تحفظ وطن کی خاطر قربانیاں دے چکا ہے۔
کرنل سہیل سے قبل ان کے دادا صوبیدار میجر راجہ احمد حسین عباسی نے جنگ عظیم دوم میں مصر میں جام شہادت نوش کیا جبکہ 1949ء میں ان کے چچا کیپٹن ظفر اقبال عباسی  نے کشمیر کے محاذ پر اپنی جان مادر وطن پر نچھاور کر کے اس دھرتی ماں کی لاج رکھی اورانہیں ستارہ جرات پانے والے پہلے پاکستانی شہید کا درجہ بھی حاصل ہے۔ اس طرح کرنل سہیل عابد کا گھرانہ پاکستان کا وہ واحد عسکری گھرانہ ہے جس نے اپنی گزشتہ تین نسلوں سےسرزمین پاک کی آبیاری کے لئے اپنے بیٹوں کا لہو پیش کیا۔ کرنل سہیل عابد عباسی نے پسماندگان میں ایک بیوہ، ایک بیٹا اور دو بیٹیاں چھوڑی ہیں۔
جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جان دیتے وقت کرنل سہیل عابد نے اپنے بیوی بچوں کے بارے میں نہیں سوچا ہو گا، اگر انہیں کوئی یاد رہا تو وہ صرف وہ عہد تھا جو یہ وردی زیب تن کرتے ہوئے پاکستان ملٹری اکیڈمی میں انہوں نے اپنی پاسنگ آوٹ کے دوران کیاتھا کہ وہ اس وطن کے دفاع کے لئے کوئی بھی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔ اور آج پوری قوم گواہ ہے جس طرح انہوں نے اپنے عہد کی لاج رکھی ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ وردی اس دھرتی کے تحفظ کے لئے کتنی ضروری اور اہم ہے کیونکہ یہی اس کی واحد ڈھال ہے۔ تبھی اسے کبھی سیاسی حلقوں سے نشانہ بنایا جاتا ہے تو کبھی دشمن قوتیں اسے دہشت گردی سے نتھی کرکے پاکستانی قوم کی نظروں اور دلوں سے گرانے کے لئے بطور ہتھیار استعمال کرتی ہیں۔
المختصر، پاک فوج کا انسداد دہشت گردی سے متعلق عزم غیر متزلزل ہے اس پر ہرگز انگلی نہیں اٹھائی جا سکتی کیونکہ اب تک 10 ہزار سے زائد اپنے افسروں اور جوانوں کی جانوں کے نذرانے اس فوج نے اس دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پیش کئے ہیں۔ لہٰذا اس وقت اس کے خلاف شکوک و شہبات پیدا کرنے والے یقینی طور پر ملک دشمن صفوں میں سے ہیں۔ پاک فوج بلاشبہ ہر شر پسند تنظیم کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کر رہی ہے۔ تھوڑی دیر سویر ضرور ہو سکتی ہے مگر  ہمیں خاطر جمع رکھنی چاہیئے کیونکہ ملک بھر سے اب ہرشرپسند تنظیم کا مکمل قلع قمع کیا جائے گا خواہ وہ کتنے نام کیوں نہ بدل لے اور اس کا ایجنڈہ چاہے جو بھی ہو۔

Comments

comments

is a research scholar/poetess and she has a keen interest in counter- terrorism narrative, national security ,and Indo-Pak relations.

Leave A Reply