ہمارا تعلیمی نظام

0

taleem

نوجوان کسی بھی قوم کا سرمایہء افتخار ہوتے ہیں، اور آئندہ آنے والی نسلیں اس کی امیدوں کا مرکز۔ جو قوم اپنی آئندہ نسلوں  کی تعمیر میں کامیاب ہو جاتی ہے وہ دراصل اپنی تعمیر کر لیتی ہے، جو قوم اپنے کم عمر نوخیزوں کا مستقبل محفوظ کر لیتی ہے اس کا اپنا مستقبل محفوظ ہو جاتا ہے، جو قوم اپنے نوجوانوں کو ایک مستحکم حال دیتی ہے وہ عروج وکمال کو چھو لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر قوم اپنی کم عمر اور نوجوان نسل کے تحفظ اور اس کی کامیابی کے لئے کوشاں رہتی ہے۔

بچوں کی تعمیر میں سب سے بڑا ہاتھ تعلیم کا ہوتا ہے اور اس کے لئے ہر ملک کی حکومت اپنے بجٹ کا ایک بڑا حصہ مقرر رکھتی ہے۔ ہمارے مذہب نے بھی بچوں کی تعلیم وتربیت کو بہت اہمیت دی ہے، اور تعلیمِ نسواں کی طرف سے عام لاپروائی کے باعث خواتین کی خواندگی پر مزید زور دیا ہے۔ چنانچہ قرآن نے تمام مسلمانوں کو تاکید کی کہ وہ نہ صرف اپنے آپ کو بلکہ اپنی اولاد اور اہلِ خانہ کو بھی جہنم کی دہکتی ہوئی آگ سے بچائیں۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹیوں کی تعلیم وتربیت اور ان کو آداب واخلاق سکھانے والوں کو اپنی معیت کی بشارت دی، یہاں تک کہ باندیوں کی بھی تعلیم وتربیت کی تاکید کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ نہ صرف سیکھنا بلکہ امت کو نصف دین سکھانا بھی ایک خاتون کی ذمہ داری قرار پائی۔

اولاد کی تعلیم وتربیت اس قدر اہمیت کی حامل ہے کہ اس پر نہ صرف ولادت بلکہ شادی سے بھی پہلے توجہ دینے کی ترغیب دی گئی، چنانچہ شریکِ حیات کے انتخاب کے سلسلہ میں اس کے بہتر والد یا والدہ ہونے کی امید اور غالب گمان کو بھی اولاد کا حق تسلیم کیا گیا۔ جہاں بچوں کی تمام تر ضرورتیں والدین کی ذمہ داری تھیں، وہیں تعلیم وتربیت کی ذمہ داری بھی سب سے پہلے انہی کاندھوں پر ڈالی گئی جنہوں نے پیدائش کے وقت سے ہی ہر قدم پر اپنے بچوں کو محبت بھرا سہارا دیا۔ والدین اپنی اولاد کی جسمانی صحت اور مادی ضرورتوں کو پورا کرنے کے ساتھ ان کی روحانی صحت اور علمی ضرورتوں کو بھی انتہائی شفقت ومحبت کے ساتھ پورا کرتے رہے۔

پھر زمانہ بدل گیا، تعلیم گاہیں کھل گئیں اور والدین نے اپنی اولاد کی تعلیم کی ذمہ داری ان تعلیمی اداروں کو سونپ کر صرف نگرانی پر اکتفا کر لیا۔ بچے آدھا دن تعلیم گاہ میں گزارنے کے بعد والدین کی نگرانی میں اسباق یاد کیا کرتے تھے اور بقیہ آدھا دن ان کی شفقتوں کے سائے میں گزارا کرتے تھے۔ لیکن اس کے بعد تو دنیا ہی بدل گئی۔ زندگی مصروف ہوتی گئی، مادیت پرستی نے پہلے والد حضرات کو اور پھر ان کی بیگمات کو بھی اپنے شکنجے میں ایسا جکڑا کہ اپنی اولاد کی طرف دیکھنے کی بھی فرصت نہ رہی۔ بچے کا آدھا دن تو سکول میں گزرا ہی کرتا تھا، بقیہ آدھا ٹیوشنوں کے چکروں کی نذر ہونے لگا۔

اسلام نے تو بچے کو نماز جیسا بنیادی فریضہ سکھانے کے لئے بھی سات سال کی عمر مقرر کی تھی، اور کوتاہی پر سزا کی اجازت تو پورے دس سالوں کے بعد دی تھی۔ لیکن مادی ترقی اور نئی زندگی کی چکا چوند کا ساتھ دینے کی غرض سے کم عمر سے ہی بچوں کو سکول کا پابند کیا جانے لگا، جہاں اس کا آدھا دن تو براہِ راست سکول کی ملکیت ہوا کرتا تھا اور بقیہ کا بھی کچھ حصہ ہوم ورک کی صورت میں بالواسطہ طور پر۔ اور پھر نئی دنیا کی مصنوعی روشنی سے آنکھیں خیرہ ہونے لگیں اور بچپن کہیں گُم ہوتا گیا۔ سکول کی تعلیم کے آغاز کی عمر کم سے کم تر ہونے لگی، جہاں پہلی جماعت حقیقتاً پہلی ہوتی تھی، وہاں اب پہلی سےبھی پہلے کئی جماعتیں ضروری قرار پائیں۔ سکول سے پہلے پری سکول یا نرسری، اور اب نرسری سے پہلے پری نرسری۔ جہاں بچے بنیادی اخلاق وعادات گھر میں سیکھنے کے بعد سکول جاتے تھے، وہاں اب یہ ذمہ داریاں بھی آہستہ آہستہ سکول کی جھولی میں جا گِریں۔ تعلیم کے علاوہ نہ صرف تربیت بلکہ بچے کی پوری زندگی ہی سکول کے ذمہ ہو گئی۔ جہاں پہلے بچہ چھ سال کی عمر میں سکول جاتا تھا وہاں اب سکول کے آغاز کی عمر کم ہوتے ہوتے نہ صرف تین تک پہونچ چکی ہے، بلکہ بعض سکول دو اور ڈیڑھ سال کی عمر کے بچوں کو بھی قبول کرنے لگے ہیں۔ سونے پر سہاگہ ماؤں کے تبصرے: “میرے بچے کا ڈیڑھ برس کی عمر میں سکول جانے کا بڑا فائدہ ہوا، اس نے بعض اچھی عادتیں اور تمیز سے پانی پینا سیکھ لیا ہے۔” کیا واقعی والدہ کا فرض محض ولادت تک محدود ہو چکا ہے؟!

اور اس سب کے بعد سکول کا وقت، کتابوں کی تعداد، سکول کے بستے کا وزن، ہوم ورکوں اور ٹیوشنوں کی تعداد نمک پر زخم چھڑکنے کے مرادف ہے۔ وہی آزاد خیال دنیا جہاں سات یا آٹھ سالہ بچے کو فجر کے لئے جگانے کو ظلم سے تعبیر کیا جاتا تھا، وہاں اب بڑے فخر سے کبھی فجر سے بھی پہلے تین سالہ بچوں کو سکول بس پر سوار کر دیا جاتا ہے۔ بچوں کو روزہ کی ترغیب دینا انہیں کمزور اور نڈھال کرنے کا باعث تھا، انہیں مسجد وغیرہ میں تمیز اور خاموشی کا سبق دینا ان کے بچپن پر حملہ تھا، لیکن کلاس کے نام پر کئی گھنٹوں تک نہ صرف کھانے پینے بلکہ حرکت کرنے پر بھی پابندی لگا کر ایک کرسی پر باندھے رکھنا بچے کا عین حق ہے۔ بچے کو ذکر اذکار کی ترغیب دینا بچپن چھیننے کے مترادف تھا لیکن ان کا پورے کا پورا دن سکول سے متعلق کاموں میں گزر جانا بچپن کی معراج ہے۔ اسلامی تاریخ کے جیالوں کے کارنامے سُنانا دہشت اور تشدد کی تعلیم دینا تھا لیکن رابن ہوڈ کی ڈکیتیاں اور ہالیووڈ کی قتل وغارت گری سے بھوپور فلمیں امن پسندی کا سبق دیتی ہیں۔ دشمن کی عوام کے ساتھ بھی از حد رحمدلانہ سلوک رکھنے والے مسلم فاتحین تخریب کار اور ظالم وجابر قرار پاتے ہیں اور شہر کے شہر کا قتل عام کر دینے والے اشوک اور کنگ ریچرڈ ہیرو بنتے ہیں۔ والدین کی فرمانبرداری کی تعلیم دینا بچے کی شخصیت پر کاری وار ہوتا ہے لیکن اس کو غیر معقول سائنس اور نئی دنیا کے نئے نظام کا بے زبان تابع بنانے سے اس کی غُلامانہ شخصیت کی بھرپور تعمیر ہو جاتی ہے۔

بچہ صبح سویرے ، اکثر ناشتہ کئے بغیر سکول جاتا ہے، واپسی پر کچھ کھاکر یا بغیر کھائے ہوم ورک کرنے بیٹھ جاتا ہے، پھر ٹیوشنوں کے چکر شروع ہوتے ہیں، اور سکول سے متعلق فرائض پورے کرتے کرتے بچہ اس قدر نڈھال ہو جاتا ہے کہ کام ختم کرتے ہی سو جاتا ہے۔ اس پر مستزاد سکول کی عمر بھی کم سے کم تر ہوتی جاتی ہے۔ اب بچپن کہاں رہا؟ بچے کا کھیل کود کا وقت، جو کہ اس کا بنیادی حق ہے، کب آئے گا؟ بچہ اپنی زندگی، اپنی ذاتی آزاد زندگی کب گزارے گا؟ ارے ہاں، سال میں دو تین مہینوں کی گرمیوں کی چھٹیاں بھی تو ہوتی ہیں، اگرچہ ہولیڈے ہوم روک کی پخ کے ساتھ۔۔ گویا اب بچپن نہ صرف ان دو سالوں پر محیط ہے جب بچہ بولنے کے بھی قابل نہیں ہوتا، بلکہ اس پر آئندہ ہر سال ایک آدھ مہینے کا بونس بھی مل جاتا ہے! سچ ہے، ماڈرن دنیا نے ہر ایک کے مکمل حقوق نہ صرف دے دئے ہیں، بلکہ ان کی حدودِ اربعہ بھی متعین کر دی ہے!

Comments

comments

is Masters in English, a passionate Indian Muslimah, searching for the higher truths.

Leave A Reply