پٹھان کوٹ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور بھارت کا بچگانہ رویہ

1

سُنتے ہیں کہ گذرے دنوں میں بڑے بوڑھوں کے پاس ہر مرض اور ہر خرابی کے علاج کے طور پر ایک ہی لفظ ہُوا کرتا تھا “شادی”
کوئی غیر ذمہ دار ہے تو اس کی شادی کر دو، کوئی کام کاج سے جی چُراتا ہے تو اس کی  شادی کر دو، کوئی لااُبالی ہے تو اس کی بھی شادی کر دو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  فہرست طویل ہے، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان بڑے بوڑھوں کی نسلیں ہمارے ہمسایہ ملک میں آباد ہو چکی ہیں، ذرائع ابلاغ اور سیاست وغیرہ میں عہدے حاصل کر چکی ہیں اور اپنے سب “ناکام” “فالس فلیگ آپریشنز” اور اپنی فوج و خفیہ اداروں کی ہر ناکامی کے شافی علاج کے طور پر ‘شادی’ کی بجائے کچھ نئے الفاظ یاد کر چُکی ہیں جن میں “آئی ایس آئی”، “پاکستان” اور “دراندازی” وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔ ماضی اور حال کی مثالیں اس امر کی تصدیق کے لئے کافی ہیں۔

مثال کے طور پر سمجھوتہ ایکسپریس کے سانحے کو لیجیئے جس میں بھارتی فوج کے ہی انتہا پسند افسران ملوث تھے۔ ممبئی حملوں کے فوراً بعد ذمہ داروں کی فہرست میں پاکستان اور آئی ایس آئی کو نامزد کیا گیا، لیکن اس حملے میں زندہ گرفتار کئے جانے والے واحد حملہ آور اجمل قصاب تک پاکستان کو رسائی نہیں دی گئی۔ علاوہ ازیں بھارت کی طرف سے مہیا کئے گئے ثبوت بھی متنازعہ قرار پائے۔ گورداس پور حملے کے بعد بھی یہی سب دیکھنے میں آیا، اس پر مستزاد یہ کہ ان حملوں میں ملوث افراد کا تعین بھارت کے اندر ہی سے ہوا وہ بھی بھارت کے اپنے خفیہ اداروں کے ذریعے!

خیر! آج کی خبروں کا موضوع “پٹھان کوٹ ائیر بیس” پر دہشت گردوں کا حملہ رہا، جس حملے میں تین بھارتی فوجی اور پانچ حملہ آور ہلاک ہوئے۔ حملے کے فوراً بعد بھارتی پنجاب کے وزیر اعلٰی نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ حالات خراب کرنے کی پاکستانی کوشش ہے۔ حملے کی سرکاری سطح پر تحقیقات کا آغاز ہونے سے بھی قبل کانگریس، آر ایس ایس اور بھارتی ذرائع ابلاغ نے حسب سابق، حسبِ عادت اور حسبِ توفیق ذمہ دار پاکستان اور اس کی خفیہ ایجنسی کو ٹھہرایا اور مودی صاحب سے سوال کِیا کہ جس پاکستان کے دورے سے وہ حال ہی میں لوٹے ہیں، کیا اس حملے کا حساب اس ملک سے مانگیں گے یا نہیں؟ جبکہ بھارتی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ  کاکہنا تھا کہ بھارت پاکستان سمیت تمام ہمسایوں سے پُرامن تعلقات چاہتا ہے لیکن پٹھان کوٹ ائیر بیس پر حملے کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

دوسری طرف عینی شاہدین کے بیانات اس حملے کو ایک مرتبہ پِھر مشکوک بنا رہے ہیں، جن کے مطابق پٹھان کوٹ ائیر بیس سے ایک روز قبل حفاظتی بیرئیرز گیٹ سے ہٹا کر اندر منتقل کر دئیے گئے تھے، جبکہ آس پاس کی دکانوں کو بھی بند کروا دیا گیا تھا، جبکہ بھارتی ذرائع ابلاغ کی طرف سے دئیے جانے والے ثبوت، جن کے ذریعے حملہ آور پاکستان میں اپنے “سہولت کاروں” اور اپنے رشتہ داروں سے رابطہ کرتے دکھائی دے رہے ہیں، وہ بجائے خود انتہائی مضحکہ خیز ہیں۔

ذرائع ابلاغ کے ضابطۂ اخلاق کے مطابق آپ کو درست خبر دینی ہے جس میں آپ کی “ذاتی رائے” شامل نہ ہو۔  حاصل شدہ معلومات کی تمام ذرائع سے جانچ پڑتال ضروری ہے، اور جانتے بوجھتے خبر کو مسخ کر کے پیش کرنے کی کسی حال میں اجازت نہیں۔ لیکن بھارتی میڈیا اس ضابطۂ اخلاق کی دھجیاں اڑاتا نظر آیا، جہاں سرکاری سطح پر تحقیقات کے شروع ہونے سے پہلے ہی پاکستان اور اس کے خفیہ ادارے کو نامزد ملزم ٹھہرا دیا گیا۔ چلیے ایک لمحے کیلئے فرض کر لیجیئے کہ یہ حملہ “فالس فلیگ آپریشن” نہیں تھا، اس صورت میں بھی بھارتی میڈیا کو  پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرانے سے پہلے کچھ سوالات اپنے خفیہ اداروں اور فوج سے بھی پوچھ لینے چاہئے تھے۔ مثال کے طور پر، جب ایک روز قبل اس قسم کے حملے کی اطلاع مل چکی تھی تو ائیر بیس کے بیرئیر کیوں ہٹائے گئے؟  اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں نے گورداس پور کے ایک روز قبل اغوا ہونے والے ایس پی کی گاڑی استعمال کی،جبکہ ائیر بیس پر دھاوا تین اطراف سے بولا گیا، کیونکر ؟ اور اس سے قبل بھی ممبئی حملوں میں ملوث افراد کشتیوں پر بیٹھ کر بھارت پہنچ گئے تھے اور بھارتی کمانڈوز کو 72 گھنٹوں تک الجھائے رکھا ، کیا یہ سب باتیں مل ملا کر بھارتی خفیہ اداروں اور سیکیورٹی فورسز کی ناکامی کو ظاہر نہیں کرتیں؟ آخر ایسے تمام حملے ان اوقات میں ہی کیوں ہوتے ہیں جب پاک بھارت تعلقات کچھ بہتری کی جانب بڑھنے لگتے ہیں؟ اور سب سے بڑھ کر یہ، کہ آخر کب تک آپ اپنی نالائقی کو چھپانے کے لئے پاکستان اور آئی ایس آئی کا نام لیتے رہیں گے؟ ممبئی حملوں کے بعد آئی ایس آئی کے چیف کو اپنی عدالت میں بلانے پر بھارتی حکومت مضر تھی، اب کچھ سوالات اپنے خفیہ اداروں کے سربراہان سے کرنے کا وقت بھی آ پہنچا ہے۔

ایسے ہر حملے کے بعد پاکستان اور پاکستان کے خفیہ اداروں کو الزام دینا بھارت کا وطیرہ رہا ہے، جبکہ پاکستان وہ ملک ہے جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی سب سے بھاری قیمت چُکائی ہے، اس جنگ میں سانحہ پشاور جیسے گھاؤ بھی سہے جو کبھی مندمل نہیں ہوں گے،اور پاکستان ہی وہ مُلک ہے جس نے ساٹھ ہزار جانوں کی قربانی دینے کے باوجود دہشت گردی کا مقابلہ کیا اور شاندار کامیابیاں حاصل کیں جن کا اعتراف دنیا نے بھی کیا ہے۔ ایسے میں پاکستان پر دہشتگردی کا الزام،وہ بھی اس ملک کی طرف سے جس کے تخریب کاری میں براہ راست ملوث ہونے اور معاونت فراہم کرنے کے ثبوت مختلف فورمز پر پیش کئے جا چکے، کچھ جچتا نہیں۔ شاید اب وہ وقت آ گیا ہے کہ بھارت اپنی سیکیورٹی فورسز اور خفیہ اداروں کی نااہلی چھپانے (اور ہر ایسے واقعے کا الزام پاکستان پر دھرنے) کی بجائے انہیں بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دے، اور اگر ایسا نہ کِیا گیا تو پھر پاکستان کی طرف سے آنے والے کبوتروں تک سے ڈرا کریں گے آپ!

is pursuing her degree in medicine and a free lance writer.

Discussion1 Comment

  1. The reason India brings its supposed “evidence” in the public domain is because it is then easy to bash Pakistan with it. The “evidence” is always weak but by ranting about “we have given actionable evidence to Pakistan” it can turn a fiction into facts. Its media keeps repeating it; it gets on social media; it then become “fact”. Simple.

    Our Pakistan media picks these reports straight from Indian media and turns it into “talk shows”. How stupid are we ?

Leave A Reply