پاک چین اقتصادی راہداری ۔ ایک نئی دُکان

0

ضرب عضب کی جاری کامیابی، آی-ڈی-پیزکی گھروں کو واپسی کی شروعات اور شہرقائد میں شروع کیے گئے آپریشن کے نتیجے میں امن و امان کی عمومی  مجموعی صورتحال میں آتی بہتری کے تناظر میں دہشتگردی کی حالیہ سفاکانہ لہر جس میں کراچی کی سب سے پرامن اسماعیلی برادری کو نشانہ بنا یا گیا ماضی کے اس ہی نوعیت کے دہشت گردی کے واقعات کا تسلسل ہے جن کہ بنیادی مقاصد کے تعین میں کبھی کوئ مغالطہ نہیں رہا یعنی دنیا میں اس تاثر کی ترویج کے پا کستان ایک انتہائ غیر محفوظ ملک ہے اور یہاں کی گئ کسی بھی قسم کی سرمایہ کاری قطعی درست نہیں – ضرورت اس بات کی ہے دہشتگردی کے اس اندہوناک واقعہ کو علاقائ اسٹریجٹک تھیٹر میں جنم لیتی تبدیلیوں اور اس کی جوہری حرکیات کے تناظر میں پرکھا جائے۔

یہ بات روزروشن کی طرح عیاں ہے کہ پاک چین اقتصادی راہدری منصوبہ اور گوادرکی بندرگاہ نہ صرف بھارت بلکہ کچھ “برادر اسلامی” مما لک کو بھی بری طرح چبھ رہا ہے- وسائل پہ قبضہ کی لڑائ کو فرقہ وارانہ تڑکہ دےکر سستی جذباتیت کوہوادینے کی کوشش سالہاسال جا رہی ہے-اور ہمارے معاشرے میں ایسے الجھے دماغوں کی بھی کافی  بھرمار ہے جودوسروں کے گھر تک روشنی پہنچانے کی دُھن میں اپنا گھر ہر دم پھونکنے پر آمادہ رہتے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اس رجحان کی سختی سے حوصلہ شکنی کی جاے- زمانے سے ایران اور عرب اپنی اپنی پراکسی جنگ نہ صرف پاکستان بلکہ شام عراق اور اب یمن تک میں مقامی اثاثوں کی مدد سے لڑ رہے ہیں اس رنگ میں بھنگ ڈالنے کے لیے بھارتی پالیسی سازوں کی بے چینی عمومی طور پر پاک بھارت تنازع کے تناظر اور چابھاراور بندر عباس کی بندرگاہوں میں اس کی سرمایہ کاری اور دلچسپی کی وجوہات کی بنا پر با لخصوص  فطری ہے – آخری تجزیے میں ایران،عرب  بالواسطہ اور بھارت براہراست پاکستان کو غیرمستحکم کرنے کی کوششوں میں مصروف عمل ہیں – ان کے زمینی دستوں کا کردار یہ ھی مقامی اثاثے کر رہے ہیں  جن کی آبیاری برسوں سے کچھ دینی مدارس کے بظاہر بھٹکے عناصر  اور بعض سیاسی شعبدہ بازوں کہ ذمہ  رہی ہے۔

دنیا میں درآمدی تیل کا سب سے بڑا صارف چین جس کی جناتی معشیت کے لیے تیل کی حثیت آکسیجن جیسی ہے فی الحال اس  آکسیجن سے لدے چین  کے تجارتی بحری جہاز آبناے ملاکہ سے گزرتے ہیں جو ایک چوک پوائنٹ ہے مستقبل قریب کے کسی بھی بین القوامی تنازع کہ بھڑکنے کی صورت میں اس کو بند کر کے آسانی سے چین کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے- گوادرکی مکمل متحرک بندرگاہ اور گوادر سے کاشغرتک کی اقتصادی راہدری کی موجودگی میں یہ مقصد حا صل نہیں کیا جاسکتا بلکہ اپنے تجارتی سامان اور اقتصادی شہ رگ کی حفاظت کے نام پر چین بحرہند اور گرد ونواح میں اپنی مظبوط فوجی موجودگی کا جواز پیدا کرنے کی قانونی پوزیشن میں آجاے گا جو بھارت اور اس کے اتحادیوں کے لیے قطعی ناقابل قبول ہو گا۔

چین کی مشرقی بندرگاہیں کاشغر سے کوئ 3500 کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں جبکہ گوادر صرف 1500 کلومیٹرکی دوری پر ہے جو گوادر کو چین کےلیے قدرتی مغربی تجارتی بندرگاہ کی حثیت دیتا ہے  ہے کاشغر کی تاریخی تجارتی اہمیت اس کے قدیم شاہراہ ریشم یا سلک روڈ روٹ کا حصہ ہونے میں پنہاں ہے وہ سلک روڈ جس  کی دیومالائ  کہانیاں ان سے منسلک رومان اورثقافتی اثرات کے اسا طیری قصے آج بھی بصد شوق سنے اور سناے جاتے ہیں – قدیم وسط ایشیا، چین، وادئ سندھ (موجودہ پاکستان)، ایران ،ترکی سے لیکر روم( موجودہ اٹلی, یورپ)  تک کے علاقے کو ایک لڑی میں پرونے والا تجارتی راستہ جس کی موجودہ گزرگاہ کا سب سے اہم تزیراتی مقام پاکستان ہے  جہاں  مختلف علاقائ قوتیں دہشتگردی کو ہوا دے رہی ہیں۔

 پچھلے دو دھائیوں میں جنوب مشریقی ایشیا اور مشرق وسطی ہونے والی عسکری و سیاسی اتھل پتھل کو اس ہی تناظر میں دیکھا جانا چا ہیےکہ یہ تمام تگ و دو محض تجارتی راستے اور اس  پر ہونے والی  تجارت پہ اجاراداری کی ازلی لڑائ کا حصہ ہے گزرے زمانے میں یہ لڑائ سلک کی پیداوار اور اس کی ترسیل کے راستوں  پر کنٹرول کی جنگ تھی آج یہ تیل کے زخائر کے ماخذ مشرق وسطی اور اس کی چین تک ترسیل تک کے راستے پہ کڑی زنجیرکسنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

تجارتی مال کی گزرگاہ  سے ملنے والے محصولآت, تجارتی راہدری, اس کیلیے ضروری بنیادی  انتظامی ڈھانچے  کی تعمیر, اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی معاشی سرگرمیاں اوران تمام عناصر کے پاکستان کے معاشرے پر مثبت سماجی اثرات مسقبل قریب کہ مظبوط مستحکم و پاکستان کی نوید سناتے ہیں جو ازلی دشمن  کی خطے میں عمومی بالادستی  کے عزائم کو  آہنی ہاتھوں سے چیلنج کرےگا۔

 امید ہے پاکستان اور چائنہ کے  پالیسی سازوں  نے اتنی بڑی سرمایہ کاری کرتے ھوے ان تمام پہلووں کو ملحوظ خاطر ضرور رکھا ہوگا – علاقائی کھلاڑیوں میں سے بھارت متحدہ عرب امارات، قطر،ایران سب گوادر کی بندرگاہ کے متحرک ہونے پر براہراست متاثر ہونگے – بازار میں ایک نئ بڑی اور بہتر دکان کھلنے پہ پرانی اور چھوٹی دکان والے واویلا تو کرینگے۔

Ahsan Malik is an IT professional with a passionate & candid version of his own on national and international issues relating to Pakistan, he tweets @MohdAhsanMalik and can be reached at m.ahson.malik@gmail.com

Leave A Reply