پاکستان اور سیکیولر فساد

1

600x380 copy

سيکولر فساديوں نے آج کے زمانے ميں تمام اسلامی ممالک سے دين کو ختم کرنے کا بيڑہ اٹھايا ہ وا ہے ۔ اگرچہ يہ گروہ پاکستان ميں بھی سرگرم ہے، ليکن جو حالت انہوں نے بنگلہ ديش ميں اسلام کی کی ہے اس سے ہ م پاکستانيوں نے اگر سبق نہ حاصل کيا تو وہ دن دور نہ يں کہ پاکستان کا بھی وہی حال ہ و جو بنگلہ ديش ميں رياست اور اسلام کو عليحدہ کرنے کے بعد ہ وا ہے۔

ميں آنے والی عوامی ليگ کی حکومت نے ايک دفعہ پھر شيخ حسينہ واجد کو تخت پر بٹھايا۔ جن قابل فکر اقدامات کی يہ خاتون 2009 مرتکب ہ وئيں ان ميں سے نماياں آئين سے بسم اللہ ختم کرنا، ملک کے نام سے ‘اسلامی جمہوريہ ‘ ہٹ انا اور سکولوں، کالجوں اور يونيورسٹ يوں سے ‘رب زدنی علما’ کی آيت نکالنا تھے۔ اس طرح يہ ملک سيکولرزم کے فساد کی طرف اس تيزی سے گامزن ہ و ا کہ بنگالی حکومت نے مئی 2013 ميں انُ لوگوں کے سينکڑوں کے اجتماع کا قتل عام کيا جو نہ صرف ملک ميں اسلام کی واپسی کے حامی تھے، بلکہ کئی دہ اياں گزر جانے کے بعد بھی آپ کے اور ميرے ملک پاکستان کے ہ مدرد اور خير خواہ تھے۔ مگر آپ نے يہ واقعہ پاکستانی ميڈ يا پر صرف اس وجہ سے نہ يں سنا کہ يہ لوگ اسلام اور پاکستان کے حامی تھے۔

کچھ لوگوں کو ابھی بھی ابہ ام ہے کہ سيکولر فسادی ابھی پاکستانی حکومت کو اثر انداز کرنے کی پوزيشن ميں نہ يں ہ يں۔ اگر گزشتہ چند مہ ينوں ميں ملک کی اہ م ترين تقرريوں کا جائزہ ليا جائے تو معلوم ہ وگا کہ ان ميں سے اکثر ايسے ہی فساديوں کی پھيلی ہ وئی جھوليوں ميں گئيں۔ قابل ذکر تقرريوں ميں پنجاب کے حاليہ گورنر کی مثال ايسی عياں ہے کہ اندھوں کو بھی شرما دے۔ موصوف کا برطانيہ ميں جو زريعہ معاش ہے اگر اس کو پاکستانی يا اسلامی قانون کی روشنی ميں ديکھا جائے تو ان کو شايد جيل کی سلاخوں سے رہ تی عمر تک سورج  کی روشنی ديکھنا نہ نصيب ہ و۔ دوسری طرف پنجاب کے سابقہ نگران وزير اعلی کے ضرورت سے ذيادہ ہی روشن خيالات سے پوری قوم واقف ہے۔ اس کے علاوہ سيفما نامی سيکولرزم کا پرچار کرنے والی تنظيم کا صدربھی اپنی پوری ٹ يم کے ساتھ موجودہ حکومت کی سرپرستی ميں سرکاری ٹی وی پر شرمناک خيالات کو پھيلانے ميں دن رات کوشاں ہے۔

پاکستانيوں کے لئے آج يہ احساس کرنا انتہ ائی ضروری ہ وگيا ہے کہ اگر ہ م اپنے ملک سے اللہ اور اس کے پاک رسول کا بتايا ہ وا دين نہ يں گنوانا چاہ تے تو ان سيکولر فساديوں کو لگام دينی ہ وگی۔ موجودہ حکومت کا جيلوں ميں قيد مجرموں کی سزائے موت پر عمل درآمد رکوانا اور اللہ کی طرف سے نازل کئے گئے اس قانون کو پاکستان سے ختم کرنے کا ارادہ خطرے کی گھنٹ ياں بجا رہ ا ہے۔ نہ صرف ميڈ يا، بلکہ حکومتی ايوانوں سے بھی اگر اس گروہ کو نہ نکالا گيا تو وہ دن دور نہ يں جب (خاکم بدہ ن) آئين سے بسم اللہ، ملک کے نام سے ‘اسلامی جمہوريہ ‘ اور تعليمی اداروں سے ‘رب زدنی عِلما’ حذف کی جا رہی ہ وگی۔

Comments

comments

Discussion1 Comment

  1. A.O.A
    is waqt pura Pakistan fasad ki zid main hai. or awam yay soch rahay hain ky in mushkil hallat main kon unky liay koi hall nikaly ga sb syasat dan to Pakistan or islam ky sath dushmani nibha rahy hain, to aam awam inhain lagam kaisy day gi jin ky bus main kuchh bhi nahi hai. or jo hamary security or difaie idary hain jo in hukmaranon or ghadaron ky bary main sari maloomat rakhtay hain or awam bhi in saray ghadaron ko barday achy tariky sy jantay hain.to ky un logon ka jo power bhi rakhtay hain in sary ghadaron ko rokny ka to wo apny zumay dari puri quon nahi karty. unko kis cheez nay rok rakha hain in ghadaron ko bay naqab ker ky saza quon nahi daity plz plz in ghadaron ko aik jaga ikatha ker ky bum sy ura dijiay.
    Pakistan ZindaBad Pak Army PaindaBad.

Leave A Reply