پاکستانی میڈیا پر غیر ملکی امداد سے چلنے والی مہمات

0

میڈیا کا احتساب نہ ہونے کے سبب یہ ایسا بے لگام اور منہ زور گھوڑا بن گیا جو چند ٹکوں کے عوض گندے سے گندا اشتہار بھی فیملی پرائم ٹائم میں چلانے پر تیار ہوگیا، ثقافتی ڈراموں کے نام پر ایسی مخالف تہذیب اور ایسے حیاباختہ موضوعات کو سامنے لایا گیا کہ ایک عام بندے کے لئے اپنے بیوی بچوں کے ہمراہ بیٹھ کر ٹی وی دیکھنا محال ہوگیا۔

 Media

گذشتہ روز پاکستان کے ایک بڑے اخبار کے آخری صفحہ پر ہاف پیج سروے نما اشتہار شائع کیا گیا ہے جس میں کچھ سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں اور کچھ تجزیہ نگاروں سے کچھ سوالات پوچھے گئے ہیں، اور ان سوالات اور ان کے جوابات کے ذریعے سے پاکستانی طالبان اور پاکستانی حکومت کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے رائے عامہ کو خالص دفاعی معاملات میں ایک خاص تناظر میں تیار کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کا ایک پڑوسی ملک بھارت جارحیت پر اترا ہوا ہو اور کنڑول لائن کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہو، اور دوسرے پڑوسی ملک افغانستان میں دنیا کے ۵۰ سے زائد ممالک کی افواج ایک عشرے پر محیط جنگ سے جان چھڑا کر جا رہی ہوں، پاکستان کے اندر جاری کشت وخون کو روکنے اور امن و امان قائم کرنے کی کوششوں کو سبوتاج کرنے کی یہ مہمات لمحۂ فکریہ ہیں۔

دنیا کی تاریخ میں جنگیں لڑنے کے انداز ہر گزرتے دن کے ساتھ بدلتے جارہے ہیں، نیزوں اور بھالوں سے ہونے والی جنگیں آج قصۂ پارینہ بن چکی ہیں اور ان کی جگہ بین البراعظمی ایٹمی میزائلوں اور سائبر حملوں نے لے لی ہے۔ جنگوں کے موجودہ انداز کو ‘فورتھ جنریشن وارفئیر’ 4GW کے نام سے جانا جاتا ہے۔ 4GW کا بنیادی عنصر ‘ڈس انفارمیشن’ ہوتا ہے، جس کے ذریعے ابلاغ کے تمام ذرائع استعمال کر کے عوام الناس کے اندر بے چینی، لاقانونیت اور بغاوت پیدا کی جاتی ہے، حکومتوں کا تختہ اُلٹنے کے لئے فوج کشی کے بجائے عوام الناس کو ہی اُکسا کر استعمال کیا جاتا ہے۔ 4GW کے ہتھیاروں میں تازہ اضافہ سوشل میڈیا ہے جس کا  وسیع پیمانے پر استعمال ’’عرب بہار‘‘ کے دوران دیکھا گیا، جب حکومتوں کے تختے الٹنے کی مہمات ٹوئٹر، فیسبک اور دیگر ذرائع کے ذریعے چلائی گئی تھیں، اور ابتدائی مرحلے میں ان ذرائع کے استعمال سے ہی عوام کو یکجا کر کے عوامی بغاوت پر اکسایا گیا تھا۔

پاکستان میں سابق صدر مشرف کے دور میں ‘میڈیا انقلاب’ رونما ہوا، کیبل ٹی وی نیٹ ورک کے ذریعے سے گھر گھر ٹی وی چینلز کی رسائی ہو گئی، اور سرکاری ٹی وی کی بالادستی کا بڑی حد تک خاتمہ ہو گیا۔ لوگوں تک معلومات کی فراہمی کا آسان ترین اور فوری ذریعہ یہی ٹی وی چینلز بن گئے، لیکن جلد ہی ریٹنگ اور کمائی کی دوڑ نے اس انقلاب کی تصویر کا دوسرا رخ آشکارا کیا، ٹی وی ٹاک شوز، نیوز بُلیٹن اور دیگر اشتہاری مہمات کے ذریعے سے رائے عامہ کو اپنے اپنے مفادات کے لئے ہموار کیا جانے لگا۔ اس دوڑ میں طرح طرح کے دلفریب نعروں، گانوں اور کارٹون کرداروں کا بخوبی استعمال کیا گیا۔ میڈیا کا احتساب نہ ہونے کے سبب یہ ایسا بے لگام اور منہ زور گھوڑا بن گیا جو چند ٹکوں کے عوض گندے سے گندا اشتہار بھی فیملی پرائم ٹائم میں چلانے پر تیار ہوگیا، ثقافتی ڈراموں کے نام پر ایسی مخالف تہذیب اور ایسے حیاباختہ موضوعات کو سامنے لایا گیا کہ ایک عام بندے کے لئے اپنے بیوی بچوں کے ہمراہ بیٹھ کر ٹی وی دیکھنا محال ہوگیا۔ پیمرا کا کردار بھی نمائشی ہی رہا اور وزارتِ اطلاعات ونشریات فقط حکومتِ وقت کے دفاع میں مصروف رہی۔

اس ساری صورتحال میں آزادئ صحافت کے نام نہاد علمبرداراور پاکستان کے معروف ترین گروپ نے انتہائی خوفناک کردار ادا کیا، اس گروپ کے اخبارات، رسائل اور ٹی وی چینلز کو گروپ نے خود ہی ایک این جی او (NGO) بنا کر بین الاقوامی اداروں سے امداد لے کر غیروں کے ایجنٹ بننے کی گھٹیا ترین مثال قائم کی۔ میر جعفر ومیر صادق کا یہ ٹولہ بڑے دھڑلے سے گذشتہ کئی سالوں سے مختلف بین الاقوامی اداروں سے امداد وصول کر چکا ہے جس کے ثبوت انٹرنیٹ پر لیک ہو کر کئی جگہ موجود ہیں۔ کبھی ‘آزاد عدلیہ’ کی تحریک تو کبھی ‘حدود بل’ اور کبھی ‘تعلیمی نظام میں تبدیلی’ کے نام پر ماضی میں پاکستان کے ذرائع ابلاغ کو بین الاقوامی اداروں کے ایجنڈے کے مطابق استعمال کر کے رائے عامہ کو تبدیل کرنے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔

سال ۲۰۱۱ میں RT (رشیا ٹوڈے) نامی ٹی وی چینل نے انکشاف کیا تھا کہ امریکہ  اپنے مفادات کے حصول کے لئے پاکستانی میڈیا پر ہر سال ۵۰ ملین ڈالر خرچ کرے گا، یہی رپورٹ فروری سنہ ۲۰۱۰ء میں ایک اور اخباری ویب سائٹ پر کافی تفصیل سے آچکی تھی۔ اگرچہ اس معروف گروپ کے اکثر صحافی انفرادی طور پر اپنے ادارے کے کسی بھی قسم کی بین الاقوامی امداد لینے کے الزام سے ہمیشہ انکار کرتے آئے ہیں اور بارہا ٹاک شوز اور اپنے کالموں میں اس کا اظہار بھی کر چکے ہیں، مگر انٹرنیٹ پر گذشتہ دنوں منظرِ عام پر آنے والے کئی  ثبوت ایسے ہیں جن کا جھٹلانا ناممکن ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستانی حکومت، وزارتِ اطلاعات اور پیمرا ان ثبوتوں کا غیرجانبداری سے جائزہ لیں، اور اگر کسی بھی میڈیا گروپ کے خلاف خواہ وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو بین الاقوامی امداد لینا ثابت ہو جائے خواہ وہ کسی بھی نام پر ہو، تو اس کے خلاف سخت سے سخت ترین کارروائی کی جائے۔ نظریۂ پاکستان، پاکستانی اداروں اور پاکستان کی تخلیق کے خلاف چلنے والی کوئی بھی مہم چاہے وہ کوئی ’’آشا‘‘ ہو یا ’’سوچئے‘‘، اس کے پسِ پردہ اصلی ہاتھ کا بےنقاب ہونا ضروری ہے تاکہ ملک دشمن عناصر کی نشاندہی کر کے غدارانِ وطن کو سرِعام سزا دی جا سکے۔

Comments

comments

is graduate from UET, Lahore, with keen intrest in Confilicts in South Asia. He tweets @ana5__

Comments are closed.