‘مقبوضہ کشمیر اور بھارت کی متعصبانہ پالیسیاں’

0
مقبوضہ کشمیر ایک ایسا علاقہ ہے جس پر ایک عرصے سے بھارت اپنا تسلط قائم کئے ہوئے ہے۔ مگر پھر بھی اس علاقے کے لوگوں کے دلوں میں بھارت کے لئے نفرت کی آگ آج بھی اسی آب و تاب سے بھڑک رہی ہے۔ بھارت کی انتہاء پسندانہ اور متعصبانہ پالیسیوں کی وجہ سے آج بھی بھارت دنیا کی تیسری بڑی فوجی قوت ہونے کے باجود پاکستان کو کسی بھی میدان میں شکست دینے سے قاصر ہے۔ یہی رویہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں بھی اپنائے رکھا جس کی وجہ سے کشمیر ایک دوسرے فلسطین کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت کے ردِ عمل میں کئی تحاریک وجود میں آئیں جن میں جے ۔کے۔ ایل۔ ایف ’’جموں و کشمیر لیبریشن فرنٹ‘‘ بھی شامل ہے۔
۲۵ دسمبر کو بغیر ڈسٹرکٹ انتطامیہ کی اجازت کے جے ۔کے ۔ ایل۔ایف ۔ کے چیف یٰسین ملک اور ان کے ساتھیوں کوبھارتی افواج گرفتار کرکے سینٹرل جیل منتقل کردیتی ہیں اور ان پر پولیس والے کے قتل کا مقدمہ بنادیا جاتا ہے جو کہ ایک بچے اور عورت کے بھارتی افواج کے ہاتھوں قتل کے نتیجے میں ہونے والے عوامی احتجاج کے دوران جاں بحق ہوگیاتھا۔۱؂ اگر ہم کشمیر سے متعلق بھارت کے رویے اورپالیسیوں پر نظر ڈالیں تو یہ بات واضح ہوجائے گی کہ کشمیر کے لئے بھارت کا رویہ ہمیشہ جارحانہ اور پالیسیاں جانبدارانہ رہی ہیں۔ یہی وہ وجوہات ہیں جن کے باعث کشمیر پر بھارت کا قبضہ ہونے کے باوجود کشمیر بھارت کا حصہ نہ بن سکا۔
کشمیریوں کے ساتھ بھارتی جارحیت کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ ابتدا ء سے لیکر آج تک بھارت مقبوضہ کشمیر کے لئے اپنی ہر پالیسی میں صرف اپنا مفاد دیکھتا ہے۔ بھارت کو کشمیری عوام سے کوئی سروکار نہیں وہ صرف کشمیر کی سرزمین کو مکمل طور پر حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔  AFSPA وہ کالاقانونی نظام ہے جو بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں تقریباََ ۲۵ سال سے نافذ کیا ہوا ہے جس کے تحت بھارتی فوجیوں کو مشتبہ شدت پسندوں کو گولی مارنے اور انہیں بغیر  وارنٹ گرفتار کرنے کے اختیارات حاصل ہیں، اس قانون کے تحت وہ کسی اتھارٹی کو جوابدہ نہیں۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارتی حکومت اور مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی حکومت کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے شکار کشمیریوں کو انصاف فراہم کرنے کی راہ میں رکاوٹ قرار دے دیا۔ تنظیم نے بھارتی حکومت سے کہا ہے کہ جموں و کشمیر سے آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ (افسپا) کو واپس لیا جائے، یہ قانون انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں بالخصوص قتل، تشدد، آبروریزی اور اغوا کے واقعات کا باعث بن رہا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ افسپا کے علاوہ پبلک سیفٹی ایکٹ بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا باعث ہے، صرف 2014ء کے دوران اس قانون کے تحت 16329 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ریاستی حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ 1990ء کے بعد گذشتہ 21 سال کے دوران 43 ہزار افراد مارے گئے ان میں 13226 عام شہری تھے، دوران حراست 800 افراد کی موت واقع ہوئی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جموں و کشمیر میں تعینات فوجی عسکریت پسندی کا مقابلہ کرنے کے دوران بھی عام شہریوں کی ہلاکت کے مرتکب ہوتے رہے ہیں۔۲؂
انسانی حققوق کی عالمی تنظیم کی صرف یہ رپورٹ ہی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
بھارت کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ اس نے اپنے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو دبانے کے لئے ہرناجائز ہتھکنڈہ اپنایا ہے۔یٰسین ملک اور ان کے ساتھیوں کا جرم وہی ہے جو افضل گورو کا جرم تھا، کہ وہ کشمیری مسلمان تھے، انتہائی دھمیے مزاج والے افضل گورو موسیقی اور غالب کی شاعری کے دیوانے تھے۔ بیٹے کا نام بھی غالب رکھا ، دلّی سے اکنامکس میں ماسٹرز کرنے والے افضل گورو بینک آف امریکہ میں ملازمت بھی کرتے رہے، سری نگر میں کشمیری خواتین کے ساتھ بھارتی فوج کی اجتماعی درندگی کے واقعے نے افضل گورو کی دنیا بدل ڈالی اور وہ جموں کمشیر لبریشن فرنٹ میں شامل ہو گئے۔ کئی سالوں تک کشمیر کی آزادی کیلئے سرگرم رہنے کے بعد وہ ہجرت کر کے پاکستان آگئے مگر کچھ ہی عرصے بعد پاکستانی حکومت کے کشمیر پر سرد رویے کے باعث مایوس ہو کر واپس مقبوضہ کشمیر چلے گئے جہاں بھارتی حکومت نے انہیں گرفتار کر لیا۔ دسمبر 2001ء میں بھارتی پارلیمنٹ پر حملے سے پہلے ہی وہ بھارتی سیکورٹی فورسز کی حراست میں تھے۔ مگر اسکے باوجود انہیں اس حملے میں ملوث کر کے بھارتی حکومت اور پھر انہیں موت کی سزا دے کر بھارتی عدالت نے بھی ثابت کر دیا ہے کہ کشمیریوں کے ساتھ بھارت میں کبھی انصاف نہیں ہو سکتا۔ بھارتی دانشوروں نے بھی تسلیم کیا ہے کہ افضل گورو بھارتی پارلیمنٹ پر حملے میں ملوث نہیں تھے اور بے گناہ تھے۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کی دعویدار بھارتی حکومت نے صرف الیکشن جیتنے اور بی جے پی کا منہ بند کرنے کیلئے ایک بے گناہ کشمیری کو پھانسی دے دی۔۳؂
جے ۔ کے۔ ایل ۔ ایف کے چیف یٰسین ملک پر جو مقدمہ در ج کیا گیا ہے وہ اپنے اندر کوئی حقیقت نہیں رکھتا ۔ بھارتی جارحیت کے خلاف عوامی احتجاج کے دوران جاں بحق ہونے والے پولیس اہلکار پر اتنا شور شرابا کرنے سے پہلے بھارت کو اپنی ان درندہ صفت سرگرمیوں کو انجام دینے کے جرم میں اپنے فوجی اور پولیس کے افسران کے خلاف مقدمات درج کرنے چاہئیں جن کی بھینٹ کتنے مظلوم کشمیریوں کو چڑھادیا جاتا ہے۔ یٰسین ملک اور ان جیسے کئی رہنما جو کشمیری عوام سے ہمدردی رکھتے ہیں اور ان کے حقوق کے لئے آواز بلند کرتے ہیں ان کو ہمیشہ بھارتی متعصبانہ رویے کا سامنا کرنا پڑا جن میں سے کچھ کو موت کے گھاٹ بھی اتار دیا گیا اور کچھ کو اب بھی کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

Comments

comments

Leave A Reply