قرارداد پاکستان اور ہم

0

مینار پاکستان ،ایک قومی شاہکار ہے یوں لگتا ہے کہ ہماری تاریخ کا وہ یاد گار دن اس مینار کی شکل میں مجسم ہوگیا ہے۔جب برصغیر کے مسلمانوں نے غلامی کے طویل سیاہ دورکے بعدایک الگ مسلم ریاست کو اپنی واحد منزل قرار دیا تھا۔یہ مینار لاہور میں بادشاہی مسجد کے قریب اقبال پارک میں عین اس مقام پر تعمیر کیا گیا جہاں 23مارچ کو قائد اعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیزقیادت میں آل انڈیا مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس منعقد ہوا تھا۔اس اجلاس میں وہ تاریخی قرارداد منظور ہوئی تھی جسے بعد میں قرارداد پاکستان کے نام سے موسوم کیا گیا۔

یہ مینار 22،23اور 24مارچ کے کُل ہند مسلم لیگ کے فقید المثال جلسے کی زندہ نشانی ہے ۔اس جلسے میں بانی پاکستان،بابائے قوم،حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کی صدارت میں وہ قرارداد لاہور منظور ہوئی جو دراصل ایک نئے آزاد ملک پاکستان کے قیام کے لئے تھی،مگر جس میں کہیں بھی لفظ”پاکستان”استعمال نہیں ہوا ۔اس قرارداد لاہور کو اگلے ہی روز تمام ہندو پریس اور اس دَور کے ذرائع ابلاغِ نے ”قرارداد پاکستان”کا نام خود ہی تعصب کی بناء پر دے دیا۔

مگر قدر ت کو دراصل یہی منظور تھا۔پھر تو یہ واقعی قرارداد پاکستان ہی ثابت ہوئی اور قرارداد لاہور کی منظوری کے بعدصرف سات سال کی مختصر سی مدت میں 14اگست1947کو پاکستان معرض وجود میں آگیا۔اس قرارداد پاکستان میں میں مختلف باتوں پر روشنی ڈالی گئی تھی

٭آئینی مسئلے پر آل انڈیا مسلم لیگ کونسل اور مجلس عامہ کے اس اقدام کی تائید و توثیق کرتے ہوئے،جو ان کی 27اگست ،17اور 18ستمبر ,22اکتوبر 1939اور 3فروری 1940کی قراددادوں سے واضح ہوتا ہے کہ وہ وفاقی منصوبہ ،جس کا اظہار گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ1935میں کیا گیاہے قطعاََ غیر موزوں ،اس ملک کے خاص حالات کے پیش نظر ناقبول عمل اور مسلم ہندوستان کے لئے یکسر ناقبول ہے۔

٭اس قرارداد کا مقصد ہی الگ ریاست کا قیام تھا۔جہاں مسلمانوں کی اپنی پہچان ہو،زندگی ہو ،امن ہو۔ہر طرف آزادی کی رمق ہو۔یہ ہمارے بزرگوں اور رہنماؤں کی قربانی کا نتیجہ ہے جس کو بدولت ہم آج دنیا بھر کے نقشے پر ابھرنے کے قابل ہیں۔قائد اعظم نے تعمیر پاکستان کے وقت فرمایا تھا۔

”اپنا فرض بجا لاتے رہواور خدا پر بھروسہ رکھو!دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو ختم نہیں کرسکتی۔یہ ہمیشہ قائم رہنے کے لئے بنا ہے۔”(30اکتوبر ،1947)
اس وقت ہم سب ایک تھے۔ہمارا مقصد ایک تھا۔ایک جوش تھا۔جلسوں میں سب کی آنکھوں میں آنسو ہوا کرتے تھے،ساتھ کھڑے لوگوں سے کوئی خونی رشتہ نہیں ہوا کرتا تھا۔لیکن پھر بھی وہ سب ایک ہی احساس کی مالا میں پروئے ہوئے لوگ تھے۔ان سب کے دل ایک ہوتے تھے۔انکی زبان پر ایک نعرہ ہوا کرتا تھا
”لے کر رہیں گے پاکستان،بن کر رہے گا پاکستان”
جب نہ کوئی سندھی تھا،نہ کوئی بلوچی اور نہ ہی کوئی پنجابی۔وہ سب مسلمان تھے ۔جن کا مقصد انظریہ پاکستان تھا۔کتنے بزرگوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ،کتنی ماؤں اور بہنوں نے اپنی عزتوں کو داؤ پر لگایا کتنے بچوں کے سروں کو سکھوں نے نیزوں میں گھونپا۔آج بھی بڑے بوڑھے اپنی بوسیدہ پوٹلیاں اٹھائے ،پھٹی پرانی تصویریں پکڑے اور پرانے ٹین کے ٹرنک سنبھالے ہوئے اپنی پرانی یادوں کو دہراتے نظر آتے ہیں۔آزادیاں حاصل کرناآسان کام نہیں پوری ایک نسل قربانی دیتی ہے تب جاکے آنے والی نسلیں آزادی کی نعمت سے مالامال ہوتی ہیں۔

آج ہم کہاں کھڑے ہیں؟بھائی بھائی کے خون کا پیاسا ہے۔کیا پاکستان کا مقصد دہشتگردی،کرپشن،رشوت خوری ،بے سکونی،کھلے عام دھاندلی تھا؟ہرگز نہیں۔ملک کو بدلنے کے لئے پہلے خود کو بدلنا پڑے گا۔اپنے آپ کو محب وطن بنانا ہوگا۔دوسرے کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنا ہوگا تب جاکر ہی ہم قرارداد پاکستان کا مفہوم سمجھ سکے گے۔

حال ہی میں لاہور کے چرچ میں ہونے والے دو بم دھماکوں میں بے دردی سے معصوم شہریوں کو اڑا دیا گیااور اس کے بعد جو انسانیت سوز مناظر ہم نے دیکھے ،اس سے یہ بات تو صاف کھل کر سامنے آ گئی کہ اس حملے کا مقصد دشمنوں کاہمیں آپس میں لڑوانا ہی تھا۔اسلام محبت ،اخوت اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے اس میں دہشت گردوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ۔چرچ پے حملہ کرنے والا بھی دہشت گرد تھا اور بے گناہ لوگوں کوذندہ جلانے والا بھی دہشت گرد۔ پاکستان کی بقاء کے لیے ان دہشت گردوں کا خاتمہ بہت ضروری ہے ۔

پاکستان آرمی اب تک 14دہشت گردوں کو پھانسی دلوا چکی ہے اور 15جون 2014کو وزیرستان میں ضرب ازب آپریشن اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ پاکستان آرمی کسی دہشت گرد کو نہیں بخشے گی اور دہشت گردی کی اس لعنت کو پاکستان سے ختم کرکے ہی دم لے گی ۔ 16دسمبر کو آرمی پبلک اسکوں میں بزدل دشمنوں نے معصوم کلیوں کو شہید کیا۔مگر سلام ہو پاکستان آرمی کی ہمت و عظمت پر جس نے کسی ایک دہشتگرد کو بھاگنے نہیں دیا اوردشمنوں کو یہ باور کرادیا کہ ہم کسی بھی قرنانی سے دریغ نہیں کریں گے۔

آئیے ہم سب مل کر وعدہ کرتے ہیں کہ ہم سب متحد ہیں۔ہمیں دنیا کی کوئی طاقت مات نہیں دے سکتی ۔ہم اپنی ساری قوت دشمنوں کے خلاف استعمال کریں گے اور رنگ و نسل،زبان، اور تعصب ختم کریں گے۔کریں گے نا؟؟؟

Comments

comments

Doing MA in Mass Communication from University Of Karachi. He tweets at @PrinceSaad83 and can be reached at saadshahid777@hotmail.com

Leave A Reply