جنرل کیانی کی سبکدوشی سے جنرل شریف کی تاج پوشی تک کا سفر‎

0

Gen Kayani, Pakistan, COAS, Pakistan Army,

ایک بار ملا نصیرالدین سے لوگوں نے پوچھا: “ملا بتائیں جنازے کے آگے چلنا چاہیے یا پیچھے؟” ملا نصیرالدین نے برجستہ فرمایا: “حضور! تابوت کے آگے چلیں یا پیچھے، دائیں چلیں یا بائیں، کوئی حرج نہیں۔ بس خیال رہے کہ تابوت کے اندر نہ ہوں!” یعنی پسِ پردہ سمجھا دیا کہ سمت کا تعین کیسے کرنا ہے۔

حالیہ دنوں مملکتِ خداداد اسلامی جمہوریۂ پاکستان بھی گویا تابوت کے اندر ہی ہے کہ جس کے حال صرف اندر والے ہی جانتے ہیں۔ ہر طرف سے اٹھنے والی چہ میگوئیوں نے دھند کی ایسی دبیز تہہ تان دی ہے کہ واقعات اور حالات کچھ کا کچھ دکھائی دیتے ہیں۔ پتہ بھی ہلتا ہے تو ہواؤں کی سازش محسوس ہوتی ہے۔ ایسے حالات میں جو چند خوش نما خواب ہیں ان میں سے ایک ہچکولے لیتی ہوئی جمہوریت کی گاڑی ہے جو جیسے تیسے بھی بہرحال منزل کی تلاش میں گامزن ہے۔ ایک جمہوری حکومت سے دوسری جمہوری حکومت تک اقتدار کی منتقلی کا سفر بے شک آبلہ پائی کا ہے، لیکن مسافت چونکہ طے ہو رہی ہے لہذا امید کی جا سکتی ہے کہ شجرِ سایہ دار بھی کہیں نہ کہیں راہ میں ہوں گے۔

تمام تر سیاسی اور غیر سیاسی عناصر کی دراندازیوں کے باوجود جس طرح افواجِ پاکستان  کے سربراہ بغیر کسی آمرانہ مداخلت کے سبکدوش ہوئے ہیں وہ یقینا قابلِ ستائش ہے۔ سابقہ آرمی چیف نے جو گولف فیڈریشن کے صدر بھی رہ چکے ہیں، اکثر اس عمدگی سے اسٹروک کھیلے کہ حلیفوں اور حریفوں دونوں کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔ بڑی خوبصورتی سے چھ سال فوج اور ایوانِ سیاست کے درمیان توازن برقرار رکھا کہ نامور غیرملکی میگزین نے اپنی رینکنگ میں انھیں دنیا کے بااثر افراد کی فہرست میں شامل کئے رکھا۔ ان کا نپا تلا انداز ہمیشہ ہی پیچھے داستان چھوڑ آیا۔ ایسی ہی کسی داستان کے آغاز کا سرا جنرل راحیل شریف کی تقرری بھی ہے شاید!

سینئر ترین فوجی افسر، لیفٹنٹ جنرل ہارون اسلم کو بائی پاس اور جنرل کیانی کے تجویز کردہ جنرل راشد محمود کو مسترد کر کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے بیچ قطار سے نکال کر جنرل شریف کا جو تقرر کیا ہے تو نہ چاہتے ہوئے بھی ذہن کے گوشوں میں سنہ1999ء کے سابقہ تجربات سر ابھارنے لگے۔ فوجی معاملات میں دخل اندازی کبھی سودمند ثابت نہیں ہوئی، یہ درس ہماری تاریخ کے ہر صفحے پر درج ہے۔ گو کہ یہ منتخب وزیرِ اعظم کا حق ہے، مگر خدشہ ہے کہ تاریخ ایک بار پھر یار کے پاؤں کو زلفِ دراز میں الجھا کر، یہ کہتی ہوئی ہنس کے پلٹ نہ جائے کہ لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا!

ڈرون حملوں کے حوالے سے ملک میں بڑھتی ہوئی بے چینی، اس پر امریکہ کا ازلی موقف، گیسوئے خم دار کی طرح الجھی ہوئی پاکستان کی داخلہ اور خارجہ پالیسیاں، نہ صرف سیاسی قیادت بلکہ نئے چیف آف آرمی اسٹاف کے لیے بھی چیلنج سے کم نہیں ہو گا۔ ساتھ ساتھ انصاف کی متلاشی بلوچستان کی عوام کی صدائے پیہم کے بعد اس بات کا تعین کرنا مشکل ہے کہ یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟ امریکہ کے وسیع تر مفاد میں کیا ہے اور وطن عزیز کس چیز کا متقاضی ہے کے درمیان دوم الذکر کی توقع ایک ایسے جنرل سے کرنا بالکل بھی انہونا نہیں ہونا چاہیے جس کے اپنے گھر کا چراغ وطن کے دیے کو سنہ1965ء میں روشنی دیتے ہوئے گل ہوا ہو۔

جسٹس جاوید اقبال نے اپنی یادداشتوں میں، جو ‘یادیں’ کے نام سے چھپ چکی ہے، ایک جگہ ذکر کیا ہے: “سنہ1963ء میں مجھے چین جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں چواین لائی اور ماؤزے تنگ سے ملاقات ہوئی۔ 15 دن کا دورہ تھا، ایک دن دورانِ گفتگو چو این لائی سے میں نے کہا کہ کیا ہی اچھا ہو کہ چین اور روس کی آپس میں دوستی ہو جائے کیونکہ دونوں ایک ہیں او یہ تیسری دنیا کے ممالک کے لیے بہت فائدہ مند صورت ہوگی۔ اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آپ کسی سے یہ سننا پسند کریں گے کہ ہندوستان اور پاکستان کی آپس میں صلح ہو جائے تو وہ بھی بڑی فائدہ مند ہوسکتی ہے کیونکہ یہ دونوں ایک ہی تو تھے؟ میں نے چو این لائی کو کہا کہ میں اس بات کو پسند نہیں کروں گا کیونکہ اب ہم ایک نہیں ہیں۔ تو انھوں نے کہا کہ ہم بھی ایک نہیں ہیں اس لیے کوئی بھی چینی اس صورت کو پسند نہیں کرے گا۔” بات جو عرض کرنی تھی وہ یہ کہ ہر نئی آنے والی قیادت چاہے وہ سیاسی ہو یا فوجی، کے لیے ہندوستان پاکستان کے مابین تعلقات پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی طرح اتار چڑھاؤ کا شکار رہتے ہیں۔ بیچ بیچ میں منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے امن کی آشا جیسے سلسلے ضرور جاری رہتے ہیں مگر جاننے والے جانتے ہیں کہ ہنوز دلی دور است!

اس وقت افغانستان اور ہندوستان دونوں ہی ہمسایہ ممالک کی طرف سے کی جانے والی پاکستان مخالف بیان بازی، بارڈر پر پھٹے گولے کی تباہی سے زیادہ ہولناک ہے، جس کے لیے یقینا جنرل شریف کو کوئی شریفانہ پالیسی ضرور ترتیب دینی پڑے گی۔

دسویں گیارہویں صدی میں بے شمار حکومتیں بنیں اور بگڑیں۔ ان حکومتوں کے عروج وزوال کا انحصار ان کی فوجی قوت پر تھا۔ نظام الدین طوسی اس وقت کے بہترین دماغوں میں سے ایک تھا جس نے الپ ارسلان اور ملک شاہ سلجوقی جیسے سلاطین کی موجودگی میں کاروبارِ مملکت کی انجام دہی کا بار اپنے کندھوں پر اٹھائے رکھا۔ وہ اپنی کتاب ‘سیاست نامہ’ میں اس امر کا دعوٰی کرتا ہے کہ صاحبِ اقتدار شخص کتنا ہی لائق کیوں نہ ہو، اگر عمالِ حکومت نااہل اور بےپرواہ ہوئے تو ساطنت کا زوال یقینی ہوجاتا ہے، برخلاف اس کے بادشاہ نااہل اور بےپرواہ کیوں نہ ہو، کارکنانِ ساطنت اگر لائق اور فرض شناس ہوں تو عوام اور ملک کی قسمت بدل جاتی ہے۔ بقول اس کے: “عقلمندوں کا قول ہے لائق ملازم اور کارآمد غلام اپنے بیٹوں سے بھی زیادہ مفید ہوتے ہیں۔” اس کے تناظر میں دیکھیں تو کون اس پہلو سے غافل ہے کہ پاکستان کی سیاست میں سیاسی اداروں کے ہمرکاب فوجی ادارے بھی بھرپور کردار ادا کرتے ہیں۔ نقطوں کو آپس میں جوڑا جائے تو بات صرف اتنی ہے کہ چیف آف آرمی اسٹاف کے اختیارات بھی بحرِ بے کراں کی طرح اس ملک کی قسمت میں دخیل ہیں۔

آج کو اگر سابقہ تجربات کی روشنی میں پرکھا جائے تو سفر سہل ہو جاتا ہے۔ تاریخ بند کتابوں کے چند ابواب کا نام نہیں ہے اور نہ ہی اسے بار بار دہرانا نیک شگون ہے۔ بلکہ بار بار دہرانے کا مطلب ہے کہ پچھلا سبق یاد نہیں رہا۔ جو قومیں اپنی تاریخیں بھلا دیتی ہیں، ان کے جغرافیے بھی باقی نہیں رہتے!

جمہوری نظام کی تحت سلیقے سے آنے والے وزیرِ اعظم اور اب چیف آف آرمی اسٹاف کے بعد انتظار ہے نئے چیف جسٹس کا بھی۔ آنے والے دنوں میں معاملات کی گیند کس طرح اور کتنے اوورز میں چوکے چھکے لگاتی ہے، اس حوالے سے راوی فی الحال شجر سے پیوستہ رہنے کو، لکھتا ہے۔

Comments

comments

Leave A Reply