پاکستانی مسلمان ‘ سائنس اور ہمہ وقت کی تنقید

0

مسلمانوں نے دو سو سال سے کچھ نہیں ایجاد کیا

جب تاتاری بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجا رہے تھے تو اس وقت کے مولوی مسواک کے سائز پر لڑ جھگڑ رہے تھے۔

پہلے ایجادات پر فتوے لگاتے ہیں پھر خود ہی استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

مسلمانوں کا اپنے ہی مسلمانوں کو قابو کرنے میں سارا وقت گزر گیا (امویوں اور عباسیوں کی لڑائیاں)۔

سائنسی پہلو سے مسلمانوں کے ماضی (مسلمان سائنسدان ) کا ذکر ہرگز بلکل نہیں کرنا (ورنہ پھر سے طعنے سننے پڑ جانے) ‘ وقت رواں کو بغور دیکھتے ہیں – اس ضمن میں پہلے کچھ اعداد و شمار پاکستان میں ١٧٢ کے قریب یونیورسٹیز ہیں ‘ اسی طرح ٩٢ میڈیکل کالجز ہیں – سب سے زیادہ پنجاب میں ہیں ٤٩ انجینئرنگ یونیورسٹیز’ جبکہ ٤٦ میڈیکل کالجز پنجاب میں ہیں – (فاٹا اور بلوچستان میں تعلیم کا حال سب کو پتا ہی ہے ‘ چار آمرانہ ادوار اور سات جمہوری ادوار میں وہاں پر کتنی یونیورسٹیز بنائی گئی ہیں ؟ اگر نہیں بنائی گئیں تو کس نے ہاتھ روکے ہوئے تھے ؟ اگر ان کا کوٹہ مخصوص کر دیا گیا ہے باقی صوبوں میں تو سیٹس کی تعداد اتنی کم کیوں ؟ اور اگر زیادہ کوٹہ ہے تو ان علاقوں کو پسماندہ کہنا چھوڑتے کیوں نہیں لوگ ؟ ) تمام یونیورسٹیز اور میڈیکل کالجز طلبہ سے کچھا کھچ بھرے ہوئے ہیں ‘ پاکستان انجینئرنگ کونسل’ انجینئرنگ یونیورسٹیز میں طلبہ کی تعداد کی ایک حد مقرر کرتی ہے مگر تمام پرائیویٹ سیکٹر کی انجینئرنگ یونیورسٹیز مقرر کردہ حد سے زیادہ طلبہ کو ہی داخلہ دیتے ہیں (وجہ بتانے کی ضرورت تو نہیں ‘ سب جانتے ہیں پیسہ بنانے کی مشینز ) ‘ اسی طرح میڈیکل کالجز میں ہوتا ہو گا۔

سرکاری یونیورسٹیز اور میڈیکل کالجز کی فیسز کافی کم ہوتی ہیں بنسبت پرائیویٹ یونیورسٹیز اور کالجز کے مگر سیٹس کم ہوتی ہیں ‘ ایف ایس سی میں ساڑھے نو سو نمبر حاصل کرنے والا طالب علم بھی رہ جاتا سرکاری میڈیکل کالج میں داخلہ نہیں ملتا (انٹری ٹیسٹ میں چند نمبر کم آنے کی وجہ سے) اور اگر وہ پرائیویٹ کی فیس ادا کرنے کی سکت نہیں رکھتا تو پھر خواب چکنا چور۔

پرائیویٹ سیکٹر کی تمام یونیورسٹیز کی اوسطا فی سمیسٹر فیس پچاسی ہزار روپے سکہ رائج الوقت ہے – سب سے زیادہ مہنگی لمز اور غلام اسحاق خان انسٹیٹوٹ ہیں باوجود اس کے کہ سکالرشپس اور فائنانشل اسسمنٹ کی وجہ سے سہولت ہو جاتی اکثر کو مگر ڈھائی لاکھ روپے فی سمیسٹر فیس ہے – یاد رہے اسحاق ڈار صاحب اعتراف کر چکے نصف آبادی غریب ہے ‘ دو سو روپے یومیہ کمانے والا غریب ہے ‘ اس سے نیچے والا خط غربت سے نیچے

اتنی یونیورسٹیز اور میڈیکل کالجز کی بوریوں کے حساب سے فیس بھرنے والے طلبہ و طالبات ‘ انجینئرز اور ڈاکٹرز سائنس کے میدان میں خاطر خواہ نمائندگی اور حصہ ڈالنے میں ناکام ہیں – کیا وجوہات ہیں ؟ قصور کس کا ہے ؟

الزام کس کو دیا جائے ‘ امویوں کو یا عباسیوں کو ‘ حجاج بن یوسف کو یا منصور سفاح کو ؟ علمائے بغداد کو یا علمائے غرناطہ کو ؟ محمود غزنوی کو یا اورنگ زیب عالمگیر کو ؟ فرنگیوں کو یا بہادر شاہ ظفر کو ؟

سائنس تو اقبال اور قائداعظم نے بھی نہیں پڑھی حالنکہ مغرب سے ہی تعلیم حاصل کی – خیر کس پر الزام لگا کر ‘ کس کو گالیاں دے کر ‘ برا بھلا کہہ کر دل و دماغ کا سکون حاصل کیاجائے ؟ ضیاء پر سارا ملبہ گرانا کیسا ہے ‘ علمائے ہند اور علمائے رکعت کے اماموں پر تنقید کر کے تمسخر اڑا کے ٹھٹھہ لگا کے ستو پی کر سو لیا جائے ؟

ڈھائی لاکھ فی سمیسٹر فیس لے کر کتنے موجد بنائے گئے ‘ کتنی ایجادات کی گئی ہیں ؟ یہودیوں اور عیسائیوں نے کتنے انجینئرز ڈاکٹرز ‘ سائنسدانوں کو گلے لگایا ‘ ایوارڈز دیے ؟ سالانہ  دس ہزار انجینئرز اور چودہ ہزار ڈاکٹرز میں سے کسی نے کچھ بھی نہیں ایجاد کیا ؟

اب لوگ تعلیمی نظام کو برا بھلا کہنا شروع ہو جائیں گے کہ سارے فساد کی جڑ یہی فرسودہ نظام ہے جس میں طلبہ میں سوچنے سمجھنے خود سے کرنے کی صلاحیتیں نہیں منتقل کی جاتی – پھر پروفیسرز ‘ لیکچررز ‘ اساتذہ پر تنقید کی جائے گی کہ اپنی کمائی حلال نہیں کرتے ‘ اور خود بھی تو اسی نظام سے پڑھے ہوئے ہیں – پھر یونیورسٹیز مالکان کو نشانہ بنائیں گے لوگ کہ فقط بزنس کر رہے ‘ تعلیم نہیں دے رہے – ان ساری باتوں سے پہلے مولویوں کو خوب لتاڑا جاتا ہے ‘ اگر مولوی کا وجود نہ ہوتا تو پاکستانی بھی مریخ پرپہنچ چکا ہوتا۔

بندہ کسی جگہ رک ہی جاتا ہے تنقید کرتے وقت ‘ بغیر بریک کے تنقید کے ایکسلریٹر پر پاؤں دبا دیتے لوگ ‘ ایک سرے سے دوسرے سرے تک کسی کو نہیں بخشتے ‘ کوئی ایک تو ترجیح ایسی ہونی چاہیے کہ جس پر تنقید کرنے سے مسلہ حل ہونا شروع ہو جائے۔

حقائق یہ ہیں کہ بیشک ماضی جیسا مرضی تھا ‘ اس وقت سائنس پڑھنے سمجھنے والے انگنت ہیں ‘ کوئی بھی کنویں کا مینڈک نہیں ہے ‘ اور یہ سارے مسلمان ہی ہیں ‘ مثالیں اور نام لکھنے کی ضرورت نہیں ‘ ہر سال بیس تیس ریسرچرز جن کا تعلق انجینئرنگ ‘ میڈیکل سائنسز ‘ بیسک سائنسز جیسے شعبہ جات سے ہوتا ہے پرائیڈ آف پرفارمنس ملتا ہے – ان سب کی شراکت ہوتی ہے انٹرنیشنل طور پر سائنس ‘ انجینئرنگ میں – کئی ریسرچرز کے بیسیوں مقالہ جات ہیں اچھے انٹرنیشنل جرنلز میں ‘ اچھے معیاری انٹرنیشنل جرنلز میں – امریکہ ‘ برطانیہ ‘ جرمنی ‘ اٹلی ‘ فرانس کی معیاری یونیورسٹیز سے سینکڑوں پاکستانی ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی ڈگریز لے چکے ہیں ‘ اور واپس بھی آئے ہیں اپنے ملک میں

اگر یہ سب مسلمان تھے اور ہیں تو یہ کہنا بند ہونا چاہیے کہ مسلمانوں نے دو سو سال سے کچھ نہیں ایجاد کیا۔

اگر پاکستان کی یونیورسٹیز معیاری نہیں ہیں تو تمام یونیورسٹیز کو بند کر دینا چاہیے۔

اگر اتنا وقت ‘پیسہ ‘سہولیات ‘گائیڈ لائنز سب کچھ ہونے کے باوجود اگر پاکستانی مسلمان کچھ بھی ایجاد نہیں کر پا رہا ‘سائنس کے میدان میں بلکل صفر ہے تو یہ تو اس کی اپنی کمی ہے ‘اپنی کم ہمتی ہے اپنی کم نصیبی ہے اپنی ہی غلطیاں ہیں ‘کیا اگلوں پچھلوں کو گالیاں دینے ‘چوبیس گھنٹے برا بھلا کہنے سے پاکستانی ریسرچر کچھ ایجاد کر لے گا ؟ پھر تو اٹھارہ کروڑ میں سے پندرہ کروڑ تو سائنسدان ہی بن جائیں گے – ایسا انقلاب تو حضرت آدم سے لے کر آخری انسان کے آنے تک کے دورانیے میں نہیں آیا نہ آ سکے گا۔

جس نے جس شعبہ میں باقاعدہ  تعلیم حاصل کی ہو وہ کوشش کرے اسی کو موضوع بنائے – ہاں مسلمان ہیں ہم دین سے دلچسپی یا پڑھنا یا سیکھنا چلتا رہتا ہے مگر رائے پیش کرتے وقت کسی کو برا بھلا کہنا کوئی دنیاوی قانون نہیں ہے کہ جس پر عمل ناگزیر ہے ‘ آپ اپنے انفرادی ناخوشگوار واقعات کو بنیاد بنا کر پوری اجتماعییت کو غلط کہہ ہی نہیں سکتے ‘ اگر مثبت انداز میں اچھے لب و لہجے میں اپنی سمجھ میں آنے والی باتوں کو پیش کریں گے تو کم از کم سننے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا ‘ ظاہری نفرت کم ہوتی چلی جائے گی – انگریزوں سے ہی یہ بات سیکھی ہے کہ اپنا کام کرتے رہو چپ کر کے برا بھلا کہنے میں وقت نہ ضائع کرو ‘ اور جس شعبے میں ہنر مند ہو اسی پر ذاتی ترقی کرتے جاؤ۔

استدعا ہے ‘ گزارش ہے ذاتی ترقی کرنے والے رک کر یا چلتے ہوئے پیچھے رہ جانے والوں کو نہیں کوستے ‘ پیچھے مڑ مڑ کر نہیں دیکھتے ‘ الزامات و ہمہ وقت تنقید پر وقت نہیں ضائع کرتے ‘ بلکہ اپنا عمل سامنے رکھتے ہیں کہ یہ دیکھو ہم نے یہ ایجاد کر لیا ‘ یہ حصہ ڈال دیا ‘ یہودیوں و عیسائیوں کی تھپکیاں وصول کرتے ہیں سائنسی اعتبار سے ‘ حوصلہ بڑھاتے ہیں مثبت انداز میں ‘ عقائد کو نہیں چھیڑتے (اور بنیادی عقائد کو بھی نہیں چھوڑتے) ‘ محبت کے مراکز کو نہیں چھیڑتے ‘ اور جنہوں نے سائنس پڑھی ہی نہیں ‘ فقط پیسہ کما کر سائنسی چیزیں خریدنے کے اہل بن گئے ہیں ‘ ان سے درخواست ہے دوسرے غیر سائنسی لوگوں کو برا بھلا کہنے سے صرف نفرت بڑھتی ہے’ انداز بدلیں الفاظ بدلیں ‘ جو سائنس پڑھ رہے جو کام کر رہے اپنا حصہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ان کی حوصلہ افزائی کریں تعریف کریں ‘ رہنمائی کر سکتے تو کریں ‘ نہیں تو خاموش رہ کر اپنی ذاتی ترقی کریں

چاہتے تو سب ہیں کہ ہوں اوجِ ثریا پہ مقیم 
پہلے پیدا تو کرے ویسا کوئی قلبِ سلیم

Comments

comments

Omar Al Mukhtar is lecturer at a private university, having a degree in Mechanical Engineering. His areas of interest are religion and social behaviors. Can be reached at unbeaten888@gmail.com

Leave A Reply