قومی زبا اسلام، ایک مکمل ضابطۂ حیات

0

Quran

دل اور زبان سے ان دو جملوں کا اقرار کر کے انسان نہ صرف اپنے دینی اور مذہبی طور طریقوں کا بلکہ اپنی روز مرہ کی دنیوی زندگی کے راستوں کا بھی تعین کر لیتا ہے۔ یہ دو جملے انسانی زندگی کے ہر رُخ اور ہر شعبے پر محیط ہیں۔ لا الہ الا اللہ میں اس رب کی بندگی کا اقرار ہے جو نہ صرف ہمارا مالک ہے، بلکہ ہمارا خالق ہونے کے ناطے ہمیں اور ہماری زندگی سے متعلق ہر چھوٹے سے چھوٹے جزئیے کو سب سے زیادہ جانتا ہے۔ محمد رسول اللہ میں اس پیغمبر کی رسالت کا اقرار ہے جس کو اللہ نے ہماری دنیوی ز ندگی کے طریق کے تعین اور اخروی زندگی کی کامیابی کا راز آشکار کرنے کا فریضہ سونپا۔ اخروی فلاح وبہبود ہو یا دنیوی عروج وکمال، دونوں کا راز ان دو جملوں میں ہی مضمر ہے۔

 اللہ کے خالق ورازق، مالک ومعبود ہونے کے اقرار کا تقاضا یہ ہے کہ ہم نہ صرف عبادت بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں اس کے ہی احکامات کی تعمیل کریں۔ نہ صرف مسجد میں، بلکہ سکول اور کالج، دکان اور آفس، بازار اور بینک، گھر اور سڑک، گاڑی کی نشست اور گھوڑے کی پُشت پر، کلب اور سٹیڈیم، محل اور جھونپڑی، ایوانِ پارلیمنٹ اور محلِ صدارت، یہاں تک کہ قید خانے کی کوٹھری اور پھانسی کے تختے پر، آسمانوں کی بلندیوں میں اور سمندر کی تہوں کے نیچے، بلکہ کھلے میدان نیز سات پردوں میں، غرض ہر حالت میں ہم مسلم یعنی اس رب کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے والے ہوں۔ وہ جو ہمارا خالق ہے، وہی ہمیں اور ہماری زندگی اور اس کے تقاضوں کو بہتر جانتا ہے، نہ صرف روحانی بلکہ جسمانی تقاضے بھی اس کے علمِ غیر محدود کا ایک چھوٹا سا حصہ ہیں۔ وہ جس کی بندگی ہمیں پستیوں سے نکال کر بلندیوں سے سرفراز کرتی ہے، جس کی غلامی ہمیں ذلتوں سے نکال کر عزت، اور تنزلی سے آزاد کر کے ترقی کی ضمانت دیتی ہے؛ وہ ہمیں ایک سجدے کا حکم دے کر ہزار سجدوں سے نجات دے دیتا ہے۔ ایک اس کی غلامی میں آ کر انسان کی کتنی ہی غلامیوں کی زنجیریں ٹوٹ جاتی ہیں، گردن میں اس کی بندگی کا طوق ڈال کر اور پاؤں میں اس کی عبادت کی بیڑیاں پہن کر انسان نہ صرف دیگر انسانوں، ظالموں، حاکموں، امیروں اور دولت مندوں کے علاوہ حجر وشجر اور جن وشیطان کی غلامی سے بلکہ خود اپنے نفس کی غلامی سے بھی آزاد ہو جاتا ہے۔ اس کے سامنے سرِ تسلیم خم کر کے ہمیشہ کی سربلندی کو اپنا مقدر بنا لیتا ہے۔

 محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ورسالت اور راہنمائی کے اقرار کا تقاضا یہ ہے کہ ہم نہ صرف نماز وزکاۃ، روزہ وحج میں ان کے طریقے کی پیروی کریں، بلکہ تعلیم وتعلم، محبت ونفرت، حکومت وسیاست، جنگ وامن، سیر وتفریح، غرض زندگی کے ہر شعبے میں ان کی سنت کی اتباع کریں؛ صرف عبادت اور ذکر واذکار میں نہیں، بلکہ انسانی، معاشرتی اور خاندانی تعلقات میں بھی راہِ سنت کو لازم پکڑیں، صرف نمازی اور حاجی کی حیثیت سے نہیں بلکہ والدین، اولاد، بہن بھائی، دوست ودشمن، امیر وغریب، استاد وشاگرد، حاکم ومحکوم، بلکہ فوجی، ڈاکٹر، انجینئر، تاجر، ملازم، نوکر، مالک، دکاندار، خریدار اور کھلاڑی کی حیثیت سے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو اپنا شعار بنائیں۔

 رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صرف نماز روزہ یا حج زکاۃ کا طریقہ نہیں، بلکہ اسلام کی شکل میں ایک مکمل ضابطۂ حیات، ایک ایسا نظامِ زندگی لے کر آئے تھے جو ہمیں صرف عبادت کرنا نہیں بلکہ زندگی گزارنا سکھاتا ہے۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لئے ایک قابلِ تقلید نمونہ بن کر آئے تھے، جس سے ہم نہ صرف عبادت کرنا بلکہ زندگی کا ہر لمحہ جینا، ہر پل گزارنا سیکھتے ہیں۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں رشتے نبھانے کے عملی سبق دیے۔ آپ اپنے والدین کی نیک اور فرمانبردار اولاد بننا چاہتے ہیں، والدین کے حقوق اور اپنے فرائض ادا کرنا چاہتے ہیں، تو آپ صرف رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر نظر ڈال لیجئے۔ اولاد کی اچھی تربیت کرنا چاہتے ہیں، کامیاب اور بامقصد زندگی کے گُر سکھانا چاہتے ہیں تو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ کو اپنے اور اُن کے لئے نمونہ بنائیے۔ اچھا خاوند بن کر اپنی بیوی کو خوش رکھنا چاہتے ہیں تو آپ کے لئے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا مطالعہ کافی ہو گا۔ بہنوں کا اچھا بھائی بننے کے لئے بھی رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو مدِ نظر رکھئے۔ بچوں پر شفقت کرنا رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے سیکھئے۔ جانوروں کے حقوق کا سبق رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے لیجئے۔ ماحولیات اور پانی وغیرہ کا اعتدال کے ساتھ استعمال کرنا سنتِ نبوی سے سیکھئے۔ زراعت وتجارت کا سبق بھی آپ کو سنتِ مطہرہ میں مل جائے گا۔ حکومت کے اصول اور جنگ کے قواعد بھی احادیث وآثار میں بالتفصیل بیان کر دئے گئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثوں سے ہمیں نہ صرف خاندان اور قوم کے حقوق وواجبات کا سبق ملتا ہے، بلکہ دیگر اقوام یہاں تک کہ غیر مسلموں اور قیدیوں کے ساتھ معاملہ کرنے کے اصول بھی ملتے ہیں۔

غرض اسلام، اللہ کی کتاب اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات ایک مکمل، بھرپور اور کامیاب ترین زندگی گزارنے کے لئے کافی ووافی ہیں، اور زندگی کا کوئی بھی شعبہ ایسا نہیں جو اسلام کے دائرۂ کار سے خارج ہو، یا جہاں ہمیں اپنی اسلامی شناخت اور اسلامی اقدار کو خیر باد کہنا پڑے۔ چنانچہ ہم زندگی کا ہر پل اور ہر لمحہ نہ صرف بحیثیت مسلمان گزار سکتے ہیں بلکہ ہمارا ہر پل، ہر لمحہ مسلمان رہنا ہمارے لئے دونوں جہان میں سرخروئی کا باعث بھی ہو گا ان شاء اللہ۔

Comments

comments

Leave A Reply