دہشت گردی کے خلاف پاک فوج کا کردار اور آپریشن ردُّالفساد

0
نظریہ پاکستان  ( لا اِلٰہ اِلّا اللّٰہ مُحمِّدُ رَّسُول اللّٰہ )
 کی  بنیاد پر حاصل کیا گیا ملک شروع دن سے ہی دشمن کا اولین ہدف رہا ہے۔دشمن نے ہر محاذ پر پاکستان کو  شکست دینے کی کوشش کی ہے،  وہ چاہے ملک کے اندر دہشت گردی ہو یا لائن آف کنٹرول پر بھارت کی جانب سے اعلانیہ جنگ ، پاک فوج نے ان سب مشکل حالات کے باوجود ملک دشمن عناصر کا بھرپور صفایا کیا۔
جب بھارت نے یہ دیکھا کہ پاکستان سے کھلم کھلا جنگ نہیں کرسکتے تو اس نے اپنی ناپاک “را” کے ذریعہ پاکستان کے اندر دہشت گردی کو پروان چڑھاناشروع کردیا جس کا واضح ثبوت بلوچستان سے پکڑا جانے والا بھارتی خفیہ ایجنسی “را” کا حاضر سروس ایجنٹ کلبھوشن یادو ہے۔.
لیکن پاک فوج نے بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے کا فیصلہ کررکھا تھا۔ پاک فوج نے دہشت گردی کے خلاف سب سے بڑا آپریشن سوات میں 2007 میں شروع کیا  جس کا نام آپریشن “راہِ حق” رکھا گیا ۔ پاک فوج نے اس آپریشن میں بڑی کامیابیاں حاصل کر کے سوات میں امن بحال کیا لیکن بیرونی قوّتوں کی مدد سے دہشت گردوں نے ایک بار پھر  سر اٹھا لیا  تو مئی 2009 میں پاک فوج نے ان دہشتگردوں کے خلاف آپریشن “راہِ راست” شروع کیا اور امن کو بحال کرنے کے لیے کئی قربانیاں پیش کیں۔جون 2009 میں پاک فوج نے  دہشت گردوں کے خلاف ایک اور منظم آپریشن شروع کیا جس کا نام آپریشن “راہِ نجات” رکھا گیا۔ پاک فوج نے اس آپریشن میں بھی  بڑی کامیابیاں حاصل کیں اور دہشت گردوں کے  ٹھکانے اور مراکز تباہ کئے اور قبائلی علاقوں میں امن قائم کیا۔ چند سال ملک میں امن و امان کی صورتحال قائم رہی لیکن پھر اس کے بعد دہشت گردوں نے ملک کے اند ر  اچانک  سےدوبارہ سر اٹھا لیا اور کئی  محب وطن افراد، لیڈرز کا قتل عام کیا اور پھر سب سے بڑا حملہ آرمی پبلک اسکول کے معصوم طلباء پر کیا جو کہ پاکستان کے لیے ایک بہت ہی بڑا دھچکا تھا ۔ اس حملے کے بعدپاکستان نے بھی دہشت گردی کے خلاف  ملک  بھرمیں سب  سےبڑا آپریشن “ضربِ عضب” کیا۔ اس کامیاب آپریشن کا آغاز اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کیا ۔اس آپریشن نے ملک میں مکمل امن و امان کی صورتحال قائم کردی ۔اس آپریشن کے نتیجے میں پاک فوج نے دہشتگردوں کے 185 اہم کمانڈرز اور 3500 امن دشمنوں کو جہنم واصل کیا۔ملک میں امن و امان کی ایک فضاء قائم ہوگئی اور دوسا مکمل امن و سکون کے گزرے۔ یاد رہے کہ آپریشن ضرب عضب میں پاک فوج کی کامیابیوں کو دنیا نے سراہا۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ جیت رہا  ہے۔پاکستان نے آپریشن ضرب عضب میں کئی قیمتی جانوں کا نقصان بھی اٹھایا، جس میں عام شہری، طلبا اور پاک فوج کے فوجی، پولیس رینجرز و دیگر کے شہداء شامل ہیں۔  گزشتہ دنوں   اچانک  سےتحریک طالبان پاکستان کے نئے گروپ جماعت الاحرار نے سر اٹھا لیا اور پہلا خودکش حملہ لاہور میں کیا جس میں 18 سے زائد افراد کو زندگی کی بازی ہارنا پڑی اور پھر دہشت گردوں نے سندھ کے علاقے سیہون  میں ایک درگاہ پر  خودکش حملہ کیا جس میں کئی قیمتی جانوں کا نقصان ہوا۔ لیکن ایک بار پھر قوم نے متحد ہوکر فوج سے مذمت نہیں بلکہ دہشت گردوں کی مرمت کا مطالبہ کیا اور پھر پاک فوج نے باضابطہ طور پر 22 فروری 2017 کو ملک بھر میں آپریشن “ردالفساد” کا آغاز کردیا ۔آپریشن “رد الفساد” ان ملک دشمن عناصر کے خلاف ہے جنہوں نے ملک کا امن خراب کیا یا پھر دہشت گردوں کے سہولت کاروں اور ملک میں انتہا پسندی کو فروغ دینے والوں کے خلاف ہے۔اس آپریشن کا مقصد دشمن کو بلاتفریق نشانہ بنانا ہے. آپریشن میں پاک آرمی، پاک فضائیہ، پاک بحریہ، پولیس، رینجرز اور خفیہ ادارے بھرپور کردار ادا کریں گے ۔آپریشن کے  سلسلے میں پنجاب میں رینجرز کی تعیناتی اور بارڈر پر سیکورٹی سخت کردی گئی ہے جبکہ ملک بھر  میں سرچ آپریشن، چھاپے اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کر کے اب تک کئی   دہشت گردوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے اور بہت سارے گرفتار کئے جاچکے ہیں۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ قوم کے خون کا ایک قطرہ ہمارے لیے بہت قیمتی ہے اور جلد ہی ہم اس کا بدلہ لیں گے، وہ دن دور نہیں جب پاکستان سے دہشت گردی کا صفایا ہوگا اور ہمارا پڑوسی دشمن اپنی سازشوں میں ناکامی اٹھائے گا۔ پاک فوج دنیا کی بہترین فوج ہے اور تمام روایتی اور غیر روایتی جنگ کے لیے تیار ہے۔  یاد رہے کہ آپریشن رد الفساد کسی خاص طبقہ کے خلاف نہیں بلکہ یہ ان سب لوگوں خلاف ہے جو ملک پاکستان کے امن کے دشمن ہیں۔دشمن ہمیں صوبائی  اور لسّانی مسائل میں الجھا کر اس آپریشن کو ناکام کرنے کی ناممکن کوشش کررہا ہے جس کے لیے وہ بڑے منظم انداز میں مہم چلارہا ہے، جس میں سوشل میڈیا پر نشر ہونے والے جعلی خطوط، نفرت انگیز پیغامات فوج اور پولیس کی طرف سے منصوب کر کر عوام اور فوج کے درمیان اعتماد کا فقدان پیدا کرنا چاہتا ہے کیونکہ اگر ایسا ہوگیا تو پاک فوج کو اس آپریشن کو کامیاب  کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
 ان حالات میں  پاکستانی قوم  کا فرض بنتا ہے کہ اس آپریشن میں افواج، پولیس اور رینجرز کے ساتھ بھرپور  تعاون کریں۔ کیونکہ اس ملک سے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے قوم کا متحد ہونا ضر وری  ہے۔جلد ہی ہم ان شاء اللہ اس ملک کو دہشت گردی کے ناسور سے پاک کریں گے۔…

Leave A Reply