پیمرا کا اک خوش آئند قدم

0

پاکستانی سیٹلائٹ ٹی وی چینلزاورایف ایم ریڈیو پر بھارتی مواد کے دکھائے جانے پر مکمل پابندی عائد کرنا پیمرا کا نہایت ہی احسن قدم ہے۔ اور پھراس فیصلے پر فوری عمل درآمد کرانا، پیمرا کے با اثر باڈی بننے کے لئے کی جانے والی کو ششوں کی غمازی کرتا ہے ۔ ورنہ پہلے تو ہمارے بچے بھارتی کارٹون دیکھ دیکھ کر اردو سے زیادہ ہندی بولنے اور سمجھنے لگے تھے۔ اور شام ہوتے ہی تمام پرائیویٹ چینلز بھارتی سوپ اوپرا نشر کرنے لگتے تھے اور ان سوپس کے پرائم ٹائم پر نشر کیے جانے کی وجہ سے بھارتی رسم و رواج اور ہندو معاشرے کی ثقافت ہمارے ملک میں گھر کرنے لگی تھی۔ جس سے پاکستانی کلچر اور تہذیب وتمدن تو خطرے میں تھا ہی مگر اس سے ہمارا عظیم اسلامی ورثہ بھی خطرے سے دوچار تھا۔ دنیا میں کسی بھی ملک میں ایسا نہیں ہوتا ہو گا جیسا کہ پاکستان میں چل رہا تھا کہ ایک طرف تو ہماری فوج اور ہمارے نہتے کشمیری بھائی لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی اشتعال انگیزی کے خلاف نبرد آزما تھے، تو دوسری طرف ہماری عوام بھارتی ڈراموں اور فلموں سے محظوظ ہونے میں مگن دکھائی دیتی تھی۔ یہ بات ان کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہو گی کہ یہ سب “سافٹ وار” کے زمرے میں آتا ہے ، جب کوئی دشمن ملک میڈیا کے ذریعے اپنے کلچر کو اپنے مخالف ملک کی فضا میں دھکیلتا ہے ، اور اپنے ثقافتی ہتھکنڈوں کے ذریعے اس ملک کی عوام کو بالعموم اور اسکی نوجوان نسل کو بالخصوص ٹارگٹ کرتا ہے ۔ جس کے لئے دانستہ طور پر دلوں کو موہ لینے والے اور آنکھوں کو خیرہ کرنے والے پروگرامز ترتیب دئیے جاتے ہیں۔
اس لئے پیمرا کا بھارتی مواد پر پابندی لگانے کا حالیہ اقدام قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ اسکے فوائد جہاں ہمیں ہماری قومی ثقافت ورسم و رواج کی بقاء کی صورت میں حاصل ہوں گے، وہیں بحیثیت قوم بھی ہم مزید ذہنی و قلبی طور پر مفلوج ہونے سے بچ جائیں گے۔ اور دو قومی نظریہ جو ہمارے ملک کے قیام کی بنیاد ہے اور دشمن کی آنکھوں میں روز اول سے کھٹک رہا ہے وہ بھی محفوظ رہے گا۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ ہمیں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے قومی بیانیے کو علاقائی اور عالمی سطح پر زیادہ مربوط طور پر وضع کرنے میں حاصل ہو گا، جو کہ شاید تاحال بھارتی مواد کی وجہ سے میڈیا میں اپنی اصل قدرومنزلت پانے میں ناکام رہا ہے۔ اور اب انسداد دہشت گردی کے حوالے سے اس قومی بیانیے کو معاشرے میں زیادہ جگہ ملنے کے قوی امکانات ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر امن کی آشا کے پیڑ تلے پنپنے والے دشمن کے مذموم عزائم جو کہ پاکستان کی نظریاتی اساس کو کھوکھلا کرنے جیسی گھناؤنی سازش کے مترادف تھے اب خاک میں مل چکے ہیں۔
مگر ابھی بھی بھارتی فلمیں ہمارے سینما گھروں میں سینما مالکان اور اس پیشے سے جڑے دیگر افراد کے کاروباری مفادات کے پیش نظر زیر نمائش ہیں۔ اور بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ ہمارے سینما کو ابھی بھی بھارتی بیساکھیوں کی مزید ضرورت ہے۔ بہرحال جو بھی ہے ، اعلٰی حکام کو اس سے متعلق جلد کوئی نہ کوئی اہم فیصلہ ضرور لینا ہوگا۔ اور ایک بات جو اور بھی زیادہ کلیدی اہمیت کی حامل ہے وہ ہے بھارتی اشتہارات کا پاکستان میں تا حال چلنا۔ معاملات کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے قومی مواقع پر بھی بھارتی اداکاروں پر مبنی اشتہارات چلنا بند نہیں ہوتے۔ یاد رہے سافٹ وار میں دشمن کے ہر حربے کا توڑ کیا جانا نہایت ضروری امر ہوتا ہے۔ لہذا معاملات کی نازکت کو بھانپتے ہوئے اب پیمرا کو اس پر بھی فوری ایکشن لینا چاہئے۔

is a research scholar/poetess and she has a keen interest in counter- terrorism narrative, national security ,and Indo-Pak relations.

Leave A Reply