یہ اوچھے ہتھکنڈے اب نہیں چلیں گے۔

0

گزشتہ ڈیڑھ دہائی سےافواجِ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اک طویل جنگ لڑ رہی ہیں۔ اس جنگ میں پوری قوم نہ صرف افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے بلکہ اس نے بے دریغ قربانیاں بھی دیں۔ افواج پاکستان اورعوام کے مابین جومحبت واعتماد کا مضبوط رشتہ قائم ہے بلا شبہ وہ دشمن قوتوں کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گاہے بگاہے بری خبریں پھیلانے اور نا امیدی پیدا کرنے والےعناصر دانستہ طورپہ سر گرم عمل ہو جاتے ہیں۔ افواج پاکستان جو کہ پاکستان اوراس کی عوام کے لئے امید کی آخری کرن ہیں ،اُنہیں بھی اپنے ذاتی وسیاسی مفادات اور منفی پراپیگنڈے کی نذر کیا جا رہا ہے۔ ملکی مفاد اور قومی وقار سے کسی کو کوئی بھی سروکار دکھائی نہیں دیتا۔ ہمارے چند نام نہاد سیاسی لیڈران اورصحافی حضرات اپنے نجی مفادات کی دکان چمکانے کے لئے کھوکھلی بیان بازیوں اور ٹوئیٹس کا سہارا لیتے ہیں۔ ایسے میں اگر انہیں افواج پاکستان پہ کاری ضرب لگانےکا کوئی بھی موقع ملے تو یہ اُسےہرگز ہا تھ سے جانے نہیں دیتے۔

مگران میں سےکوئی بھی یہ نہیں سوچتا کہ انہیں نام ،پہچان اورعزت دینے والا یہی پاکستان ہےکہ جس کے پاسپورٹ پریہ لوگ فوراً دم دبا کے باہربھاگتے ہیں۔ اور پھراسی ملک کی جڑوں کو دشمن قوتوں کے ساتھ ملکر فنگس کی طرح دن رات کھوکھلا بھی کرتے ہیں۔

گزشتہ دو ہفتوں سے سوشل میڈیا اورالیکٹرانک میڈیا کے چند مخصوص حلقوں میں ایک اینٹی آرمی کمپین چلی ہوئی ہے۔ جس میں شاید بہت سے لوگ حسب توفیق اپنا حصہ ڈالنا نا گزیر سمجھ رہے ہیں۔ کہیں جنرل راحیل شریف کا سی گریڈ میں رزلٹ کارڈ جاری کیا جا رہا ہے۔ تو کہیں جنرل قمر جاوید باجوہ کے خلاف فضول قسم کی بکواس کو ہوا دے کر عوام کو فوج سے متنفر کرنے کی گھناؤنی سازش رچائی جا رہی ہے۔ اور کہیں توپاک فوج کےجرنیلوں کےمابین نامعقول موازنےشروع ہیں۔ اورکہیں عوام میں انکی پسندیدگی اورنا پسندیدگی کے حوالے سے نت نئے شوشے چھوڑ کر افواج پاکستان اور عوام کے درمیان دراڑ ڈالنے کی کوششیں کی جاری ہیں۔ یہ ساری حرکات و سکنات ایک مخصوص ٹولے کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ جو اس قسم کی شیطانیوں کے اندرمہارت رکھنے میں اپنی مثال آپ ہیں۔ جی ایچ کیومیں حالیہ تبدیلی کمان کی پر وقار تقریب سے یہ مخصوص حلقے کچھ زیادہ ہی آگ بگولا ہیں۔ کیونکہ شاید اُنہیں عوام میں پاک فوج کی اس قدر مقبولیت ہضم نہیں ہوتی۔ بہرحال پاک فوج میں جنرل مشرف کی قائم کردہ تبدیلی کمان کی باقاعدہ تقریب کی روایت اب عسکری تاریخ میں ایک سنہرا باب بن چکی ہے۔ جس سے جلنے والے تو جلتے رہیں گے۔ مگراُن کےپاک فوج اورعوام کےدرمیان دراڑ ڈالنے کے ناپاک سپنے کبھی بھی حقیقت کا روپ نہیں لے سکیں گے۔ کیونکہ اب لوگ چالاک ٹولوں کی شیطانیوں سےبخوبی آگاہ ہوچکے ہیں۔ لہٰزا اب ان کے یہ اوچھے ہتھکنڈےا ثر کرنے والے نہیں۔

is a research scholar/poetess and she has a keen interest in counter- terrorism narrative, national security ,and Indo-Pak relations.

Leave A Reply