شاعری۔۔۔۔ اقبال کے نقطۂ نگاہ سے

0

“اور شاعروں کی پیروی گمراہ لوگ کیا کرتے ہیں۔
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر وادی میں سر مارتے پھرتے ہیں۔
اور کہتے وہ ہیں جو کرتے نہیں۔
مگر جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے اور خدا کو بہت یاد کرتے رہے اور اپنے اوپر ہونے والے ظلم کے بعد انتقام لیا اور ظالم عنقریب جان لیں گے کہ کونسی جگہ لوٹ کر جاتے ہیں۔”
(سورۃ الشعراء آیت 224_227)

شعراء کو دنیا کی تاریخ کے ہر دور میں ایک مقام حاصل رہا ہے۔ ان کی تخلیق کردہ شاعری قوموں کو بنانے اور بگاڑنے میں اہم حصہ ڈالتی رہی ہے، جس کی گواہی تاریخ کا قلم دیتا ہے۔ اندلس میں مسلمانوں کی کئی سو سالوں پر محیط حکمرانی کے زوال کے اسباب میں سے ایک اس وقت کے شاعر تھے جو اپنے اپنے امیر کی شان میں رطب اللسان رہتے تھے اور اپنے دشمن کے مقابلے پر عمل کے بجائے الفاظ کے نشتر چلانے پر اکتفا کئے بیٹھے رہے تھے۔

کسے خبر کہ سفینے ڈبو چکی کتنے
فقیہ و صوفی و شاعر کی ناخوش اندیشی

برصغیر کے زبوں حال مسلمانوں کے جذبے کیلئے بھی جنگِ آزادی میں ناکامی اور ہندو اور انگریز کے گٹھ جوڑ کے بعد مولانا الطاف حسین حالی اور مولانا ظفر علی خان جیسے شعراء نے مہمیز کا کام دیا اور مسلم قوم کو غلامی کی زنجیروں سے نکلنے کیلئے جہدِ عمل کی ترغیب دی۔

شاعرِ دل نواز بھی بات اگر کہے کھری
ہوتی ہے اس کے فیض سے مزرعِ زندگی ہری
شانِ خلیل ہوتی ہے اس کے کلام سے عیاں
کرتی ہے اس کی قوم جب اپنا شعار آزری

بلبل و طاؤس کی تقلید سے توبہ کی ترغیب دینے والے علامہ اقبال، جن کی بصیرت نے مسلمانوں کیلئے علیحدہ وطن کو ہی جبر و استبداد میں پھنسی مسلمان قوم کے لئے واحد حل کے طور پر دیکھ لیا تھا، اپنی شاعری اور فلسفے کے ذریعے عمل پسندی کا درس دیتے نظر آتے ہیں۔ جن کا استعارہ شاہین ہے جو بلند پرواز اور بےباک ہے، طوفانوں سے ٹکرانے کا شوقین اور اپنے زورِ بازو پر بھروسہ رکھتا ہے، اور یہی خوبیاں وہ اپنے نوجوانوں میں بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔

ہند کے شاعر و صورت گر و افسانہ نویس
آہ بےچاروں کے اعصاب پہ عورت ہے سوار

سے رنجیدہ نظر آنے والے اقبال نہ صرف خود لب و رخسار اور ایسی صنف کی بےمقصد شاعری سے بےزار ہیں بلکہ ہندوستان کے مسلمانوں کو ان الفاظ میں اپنا مدعا سمجھاتے نظر آتے ہیں:
“تاریخ نے ہمارے پیغمبر صلّی اللّٰہ علیہ وسلم کی ‘عصرِ حاضر کی عرب شاعری’ پر کچھ تنقیدی آراء کو محفوظ کر رکھا ہے۔ لیکن ان میں سے دو ہندوستانی مسلمانوں کیلئے بہت فائدہ مند ہیں، جن کا ادب خصوصی طور پر قومی ابتری پر مشتمل ہے اور جو ایک نئے ادبی نظریئے کی تلاش میں ہیں۔ ان میں سے دو نشاندہی کرتی ہیں کہ شاعری میں کیا نہیں ہونا چاہیے۔۔۔ اور کیا ہونا چاہیے۔

شعراء میں امراء القیس ، جو ظہورِ اسلام سے 40 برس قبل گزرا ہے، بیان کیا جاتا ہے کہ رسولِ پاک صلّی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، “یہ شاعروں کا شاعر اور جہنم میں ان کا سردار ہے۔”
اب ہمیں امراء القیس کی شاعری میں کیا ملتا ہے؟ مے کی چمک ، ناتواں جذبات اور محبت کے واقعات، طوفانی ہواؤں کے باعث عرصۂ دراز سے صفحۂ ہستی سے مٹ جانے والی بستیوں پہ دل شکن آہ و زاری ، خاموش صحراؤں کی متاثر کُن منظر کشی، اور یہ سب قدیم عرب کا افضل ترین بیان ہے۔ امراء القیس ارادے سے زیادہ تخیل کو پکارتا ہے اور مجموعی طور پر قاری کے ذہن پر خواب آور اثرات مرتب کرتا ہے۔ رسولِ خدا کی تنقید ادب کے سب سے اہم اصول کو عیاں کرتی ہے کہ اچھا ادب ضروری نہیں کہ حقیقی زندگی کی اچھائی سے بھی مطابقت رکھتا ہو۔ ایک شاعر کیلئے ممکن ہے کہ نفیس شاعری لکھے مگر پھر بھی معاشرے کو دوزخ میں پہنچا دے۔ شاعر بنیادی طور پر موہک ہے۔ لوگوں کے سامنے رنج و غم کا اظہار کرتا ہے، زندگی کے آلام کو خوبصورت اور دیدہ زیب بنانے کی بجائے وہ ابتری کو طاقت کے جلال کے ساتھ سنوارتا ہے اور لوگوں کو نابود کر دیتا ہے۔

ایک بار پھر، جب قبیلۂ عبس کے عنترہ کا مندرجہ ذیل شعر رسول اللّٰہ کو سنایا گیا
“بےشک میں پوری رات کے عذاب سے گزرتا ہوں تاکہ ایک عزت دار آدمی کے شایاں روزی کما سکوں”
پیغمبر جن کی زندگی کا مقصد زندگی اور اس کی مشکلات کو سنوارنا تھا، یہ سن کر بہت خوش ہوئے اور اپنے اصحاب سے فرمایا : “ایک عربی کی تعریف نے کبھی مجھ میں اس کو دیکھنے کی خواہش بیدار نہیں کی، لیکن میں تمہیں بتاتا ہوں، میں اس شعر کے خالق کو دیکھنا چاہتا ہوں۔”

تصور کیجئے کہ وہ شخصیت جن کے چہرے پر ایک نظر دیکھنے والے کیلئے لامحدود رحمتوں کا باعث ہے، ایک زندیق عرب سے اس کے شعر کے باعث ملنے کی آرزو کر رہی ہے۔ اس غیر معمولی عزت کی وجہ، جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس شاعر کو دینا چاہتے تھے، اس کا راز کیا ہے ؟ کیونکہ شعر بہت روح پرور ہے، کیونکہ شاعر محنت کی روزی کو عینیت کا درجہ دے رہا ہے۔ پیغمبرِ اسلام کی اس شعر کی تعریف ہمیں ادب کے ایک اور اصول سے روشناس کرواتی ہے کہ ادب زندگی کے ماتحت ہے، اس سے اعلٰی نہیں۔ انسانی تحریک کا منتہا زندگی ہے۔۔ پُر جلال، طاقت ور، پرجوش! تمام انسانی ادب اس آخری مقصد کے ماتحت ہونا چاہیے۔

اعلٰی ترین ادب وہ ہے جو ہماری قوتِ ارادی کو جگائے ، اور ہمیں زندگی کے مصائب کے مردانہ وار مقابلے کے قابل بناۓ۔ وہ ادب جو غفلت کا باعث بناتا ہے اور ہمیں حقیقت سے آنکھیں چرانا سکھاتا ہے، موت اور فرسودگی کا پیغام ہے۔ ادب برائے ادب کا عقیدہ  انحطاط کی ایک پُرفریب ایجاد ہے تاکہ ہمیں زندگی اور طاقت سے دھوکے میں رکھ سکے۔ لہٰذا رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی عنترہ کے شعر کی تعریف ہمیں ادب کے انتہائی بامقصد ارتقاء کی نشاندہی کرتی ہے۔”

گو کہ علامہ اقبال کا یہ مضمون جولائی 1917ء کے  میں شائع ہوا، مگر موضوع کے تنوع کے اعتبار سے آج بھی قابل عمل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال نہ صرف ہمارے قومی شاعر ہیں بلکہ شاعرِ مشرق کے مقام پر بھی ایستادہ ہیں۔ ان کا پیغام نہ صرف تب کی ادبی شخصیات اور شعراء کیلئے تھا بلکہ آج کی نوجوان نسل بھی اس سے اتنا ہی فیض ہاب ہو سکتی ہے اور شعر و ادب کے ذریعے بھی ترقی کی نئی راہیں تلاش کر سکتی ہے۔
اقبال کے اپنے الفاظ میں
“کہہ گئے ہیں شاعری جزو یست از پیغمبری
ہاں سنا دے محفلِ ملت کو پیغامِ سروش”

Comments

comments

is pursuing her degree in medicine and a free lance writer.

Leave A Reply