میرے خاک و خوں سے تُو نے ، یہ جہاں کِیا ہے پیدا!

0

ان کے والد فوج میں میجر تھے، جب ان کے والد کا تبادلہ کوئٹہ سے لاہور ہوا تو اسکول میں کوئی سیٹ خالی نہ تھی، اور داخلہ بند ہو چکا تھا۔ اسکول کے سربراہ کی طرف سے داخلے کی شرط یہ رکھی گئی کہ اس طالب علم کا امتحان پوری کلاس کے سامنے لیا جائے۔ سینئر کیمبرج کی کلاس کے ہر بچے نے اس طالب علم سے ایک ایک سوال پوچھا جس کا اس نے تسلّی بخش جواب دیا۔ بعد میں اس طالب علم کی طرف سے پوچھے گئے سوالات کا پوری کلاس میں کوئی بھی جواب نہ دے سکا۔ اس غیرمعمولی ذہانت پر اسکول کے اساتذہ اور ہیڈماسٹر بھی دنگ رہ گئے، چنانچہ اس طالب علم کے داخلے کا خصوصی بندوبست کر دیا گیا۔

انہوں نے 28 اپریل 1943ء کو گجرات کے علاقے”کنجاہ” میں ایک راجپوت گھرانے میں جنم لیا۔ نواسۂ رسول سے والہانہ عقیدت کی بناء پر ان کا نام “شبیر” رکھا گیا۔ ان کا خاندان فوجی پس منظر کا حامل تھا، ان کے والد محمد شریف فوج میں میجر تھے۔ ان کے والد کے پانچ بھائی فوج میں مختلف عہدوں پر فائز رہے۔ ان کے نانا 4/6 راجپوتانہ رائفلز سے جمعدار کے عہدے سے ریٹائر ہوئے تھے۔ ان کے ایک بھائی ممتاز شریف بھی فوج میں تھے جبکہ حال ہی میں ریٹائر ہونے والے پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف ان کے چھوٹے بھائی ہیں۔

جب شبیر شریف پانچ برس کے ہوئے تو ان کی تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا، سینٹ انتھونی اسکول لاہور سے انہوں نے سینئر کیمبرج کا امتحان پاس کیا۔ انہیں بچپن ہی سے فوج میں شامل ہونے کا جنون تھا، اور اس دن کا بےتابی سے انتظار جب وہ اپنے بھائی کے شانہ بشانہ وطنِ عزیز کے دفاع کیلئے کھڑے ہوں، چنانچہ گورنمنٹ کالج لاہور میں چھ ماہ ہی گزارے تھے کہ فوج میں کیڈٹ بھرتی ہو گئے۔19 اپریل 1964ء میں انہیں ملٹری اکیڈمی”کاکول” سے کمیشن ملا ۔ انہوں نے اپنے کورس میں اعزازی شمشیر بھی حاصل کی۔ کمیشن ملنے کے بعد انہیں 6 فرنٹیئر فورس رجمنٹ میں تعینات کیا گیا۔

بچپن سے ہی باڈی بلڈنگ ان کا مشغلہ تھا اور خطرات سے کھیلنا ان کا شوق! موٹر سائیکل کی سواری میں وہ ہیرو مانے جاتے تھے۔ گو کہ انہیں فوج کی طرف سے ریل کے سفر کی سہولت میسر تھی، مگر پھر بھی انہوں نے ایک بار کوئٹہ سے سیالکوٹ اور پھر سیالکوٹ سے کوئٹہ تک کا سفر موٹرسائیکل پر طے کیا۔ انہیں اپنے بہن بھائیوں سے بےحد محبت تھی، اپنے چھوٹے بھائی راحیل شریف کو وہ اعلٰی اوصاف کا مالک دیکھنا چاہتے تھے اس لئے انہیں خاص طور پر نصیحتیں کیا کرتے تھے۔

فوج میں کمیشن ملتے ہی انہوں نے قلیل مدت میں ویپنز کورس، انٹیلیجنس کورس اور پیراشوٹ کورس پاس کر لئے۔ فوج کی آٹھ سالہ سروس کے دوران وہ پلاٹون کمانڈر، کمپنی کمانڈر، سگنل آفیسر اور ایڈجوٹنٹ رہے۔

یہ ستمبر 1965ء کا ذکر ہے، جب ان کے والد کو فوج سے ریٹائر ہوئے تین ماہ کا عرصہ گزرا تھا، مگر بھارتی جارحیت کے سبب ان کے والد کی خدمات حاصل کی گئیں۔ اس جنگ میں ان کے والد اور بھائی کیپٹن ممتاز شریف بھی شریک ہوئے اور دادِ شجاعت دی۔ 1965ء کی جنگ میں شبیر شریف سیکنڈ لیفٹیننٹ اور کمپنی کمانڈر تھے ، اور تاریخ میں شاید پہلی بار ایک کمپنی کی کمان ایک سیکنڈ لیفٹیننٹ کے سپرد کی گئی تھی۔ ان کی یونٹ محاذ کی طرف چلی ، جیپ کو حادثہ پیش آنے کے سبب وہ معمولی سے زخمی ہو گئے۔حملہ آور بھارتی فوج سے نبرد آزما ہونے کے لئے ان کی یونٹ نے آزاد کشمیر کی طرف پیش قدمی کی اور چھمب جوڑیاں سے کچھ فاصلے پر پہنچ گئی۔ کمپنی کمانڈر شبیر شریف نے یہاں دشمن پر کئی کاری ضربیں لگائیں، اور دشمن فوج کے قلعے کے گیٹ تک پہنچ گئے۔ گیٹ پر موجود سنتری کو ہلاک کرنے کے بعد اس کی فولادی ٹوپی پہنی اور قلعے میں داخل ہو گئے ، اور اندر موجود پچیس پونڈ گولہ پھینکنے والی توپ والی گاڑی کو اپنی پوزیشن تک لے آئے۔

دشمن سے ایک جھڑپ میں شبیر شریف شدید زخمی ہو گئے تو انہیں اسپتال داخل ہونا پڑا، لیکن وہ محاذ پر لوٹنے کیلئے اس قدر مضطرب تھے کہ انہیں سکون آور ادویات دے کر ان کا علاج مکمل کیا گیا۔ آخر چار روز بعد وہ زخمی بازو کی پٹّی گلے میں لٹکائے ایک بار پھر محاذِ جنگ کی طرف عازمِ سفر تھے۔

چونڈہ کے تاریخی محاذ پر انہیں ایک کمپنی کی کمان سونپی گئی، اس محاذ پر بھی شبیر شریف نے اپنی قائدانہ صلاحیت اور جرأت سے حالات کو بےقابو نہ ہونے دیا۔ جنگ کے اختتام پر انہیں شجاعت کے بےمثال مظاہرے پر “ستارۂ جرأت”، “تمغۂ جنگ” اور “تمغۂ دفاع” سے نوازا گیا، اور انہیں کیپٹن کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔

وہ 1966ء میں ایڈجوٹنٹ بنے اور بعد میں کاکول اکیڈمی میں بطور انسٹرکٹر تعینات ہوئے۔ بعد ازاں انہیں 6 فرنٹیئر فورس کی انفنٹری بٹالین کا کمپنی کمانڈر بنا دیا گیا۔ 1969ء میں شبیر شریف رشتۂ ازدواج میں منسلک ہو گئے، ان کا ایک بیٹا بھی ہے۔

عالمی طاقتوں کی مدد سے بھارت نے 1971ء میں مشرقی پاکستان پر جنگ مسلط کی۔ میجر شبیر شریف ایک بار پھر دشمن سے برسرِپیکار ہونے کے لئے بےقرار ہو گئے۔ حملے کی اطلاع ملتے ہی انہوں نے اپنے کمانڈر سے محاذ پر جانے کی اجازت مانگی ، مگر کمک نہ ہونے پر ان کے کمانڈر نے انہیں کہا کہ وہ انتظار کریں مگر شبیر شریف کا شوقِ شہادت مزید بھڑک اٹھا، جب ان کا اصرار بڑھتا گیا تو کمانڈر کو انہیں اجازت دیتے ہی بنی، چنانچہ وہ محاذ کی طرف روانہ ہو گئے۔

اس جنگ میں میجر شبیر شریف ایف ایف رجمنٹ کی قیادت کررہے تھے، اور ان کی منزلِ مقصود وہ اونچا پُل تھا جو گورمکھیڑہ اور بیری والا گاؤں سے مل رہا تھا اور اس کی حفاظت پر آسام رجمنٹ کی بھاری نفری تعینات تھی، علاوہ ازیں اسے نمبر 18 کیولری کے ٹینکوں اور ایک سکواڈرن کی مدد حاصل تھی۔

میجر شبیر شریف کو اپنی منزل تک پہنچنے کیلئے نہ صرف راستے میں موجود بھارتی چوکی “جھانگر” کو تباہ کرنا تھا بلکہ اس علاقے میں موجود بارودی سرنگوں اور دشمن کی دفاعی نہر “سوربونا” کو بھی عبور کرنا تھا۔
انہوں نے اپنی کمپنی کے صف شکن مجاہدین کی مدد سے جھانگر کی چوکی پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد وہ بارودی سرنگوں سے اٹے ہوئے علاقے سے، جان کی پروا نہ کرتے ہوئے، گزر گئے اور دشمن کی اندھا دھند فائرنگ کے باوجود پیش قدمی جاری رکھی اور دشمن کے علاقے میں دو میل تک داخل ہو گئے۔ دشمن نے پسپا ہوتے ہوئے گورمکھیڑہ کا رُخ کیا۔

ان کی والدہ نے ان کی شہادت کے بعد ایک انٹرویو میں کہا ” مجھے علم تھا کہ میرا بیٹا اتنا بڑا کارنامہ انجام دے گا۔ اسی لئے میں نے اس کا نام شبیر رکھا۔ مجھے فخر ہے کہ میرا بیٹا تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔”

گورمکھیڑہ میں اطلاعات کے مطابق دشمن کی فوج کی کثیر تعداد تھی اور اسلحہ بھی وافر تھا۔ میجر شبیر شریف کو ان کے کمانڈر کی طرف سے محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی۔ انہوں نے حملے سے قبل اپنی کمپنی کے جوانوں کو یہ کہتے ہوئے دشمن کو نیست و نابود کرنے کا حکم دیا کہ اس محاذ سے جو بھی پیچھے ہٹا اسے گولی مار دی جائے گی، اگر وہ خود بھی محاذ سے پیچھے ہٹے تو انہیں بھی شُوٹ کر دیا جائے! اس حکم کے پچیس منٹ کے اندر وہ اپنی کمپنی کے ساتھ دشمن کی دفاعی نہر کے کنارے پہنچ گئے۔

چونڈہ کی جنگ تاریخ کا ایک خوفناک معرکہ تھا مگر جو معرکہ میجر شبیر شریف اور ان کی کمپنی کو درپیش تھا وہ بھی کسی لحاظ سے چونڈہ سے کم خُونی نہیں تھا۔ دشمن کے خودکار ہتھیاروں کے مکمل انتظام اور شدید مزاحمت کے باوجود دسمبر کی اس سرد ، رات میجر شبیر شریف اپنی کمپنی کے ساتھ نہر کے دوسرے کنارے پر پہنچ گئے اور دست بدست لڑائی شروع ہو گئی۔ اس معرکے میں ان کی کمپنی نے دشمن کی پوری کمپنی کو مغلوب کر لیا، جہاں دشمن کے 43 فوجی ہلاک جبکہ 28 زخمی ہوئے، چار ٹینک تباہ ہوئے اور پاک فوج کے قبضے میں آنے والا اسلحہ اس کے سوا تھا۔ یہ اونچا بند میجر شبیر شریف کے قبضے میں آگیا اور اس کے ساتھ ہی گورمکھیڑہ کی طرف جانے والے واحد پُل پر بھی پاک فوج قابض ہو گئی۔ دشمن کی طرف سے پُل کا قبضہ واپس حاصل کرنے کیلئے شدید حملے کئے گئے جس میں اسے خودکار ہتھیاروں اور لڑاکا جہازوں کی مدد حاصل تھی مگر پاک فوج نے دشمن کے ہر حملے کو ناکام بنا کر اسے پیچھے دھکیل دیا۔

کئی حملوں میں ناکامی کی ہزیمت کے بعد جاٹ رجمنٹ کے میجر نارائن سنگھ نے میجر شبیر شریف کو دعوتِ مبازرت دی جس کے جواب میں میجر شبیر شریف نے اپنے مورچے سے جست لگا کر اسے دبوچ لیا اور اسی کی سٹین گن کا پورا برسٹ اس کے سینے میں اتار کر دشمن کی کچھ اہم دستاویزات بھی قبضے میں کر لیں۔ ان کی اس مردانگی اور جرأت نے ان کی کمپنی میں نئی توانائی بھر دی اور وہ مزید جوش سے پُل کا دفاع کرنے لگے۔

پُل پر دوبارہ قابض ہونے کے لئے دشمن کا 6 دسمبر کو ہونے والا حملہ سب سے خوفناک تھا جہاں دشمن کی تیسری جاٹ رجمنٹ اور چوتھی آسام رجمنٹ کے علاوہ فضائیہ کے بمبار طیارے بھی شامل تھے۔ جبکہ پُل کا دفاع کرنے کیلئے تین دن کے تھکے ماندے مٹھی بھر مجاہد تھے۔ جب دشمن کے حملے شدید تر ہو گئے تو میجر شبیر شریف نے ایک توپچی کی جگہ خود سنبھالی اور دشمن کے کئی ٹینک تباہ کئے۔ اسی اثناء میں ٹینک کا ایک گولہ ان سے چند انچ نزدیک گرا اور ان کی شہادت کا باعث بنا۔ ان کی شہادت کے بعد ان کے ساتھیوں نے اپنے کمپنی کمانڈر کا بدلہ لینے کے لئے دشمن پر پےدرپے ایسی کاری ضربیں لگائیں کہ اسے پیچھے ہٹنے کے علاوہ کوئی چارہ نظر نہ آیا۔ وہ شبیر شریف جنہیں فوج میں ان کے سینئر اور جونیئر”سُپرمین” کے لقب سے پکارا کرتے تھے، تاریخ کے اوراق میں گورمکھیڑہ کے فاتح ہیں!

ان کی لازوال جرأت اور بہادری کے اعتراف میں انہیں نشان حیدر سے نوازا گیا۔ وہ پاک فوج کے واحد شہید ہیں جنہیں ستارۂ جرأت اور نشانِ حیدر کا اعزاز ملا اور وہ میجر عزیز بھٹی کے بعد نشان حیدر پانے والے دوسرے شہید ہیں جن کے پاس اپنے کورس کی اعزازی شمشیر بھی ہے۔ انہیں ان کی وصیت کے مطابق میانی صاحب کے قبرستان میں ان کے دوست کے پہلو میں سپردِ خاک کیا گیا۔

ان کی زندگی بہادری سے عبارت ہے، شہید ہونا ان کی زندگی کا مقصد تھا جس کا اظہار انہوں نے اپنی اہلیہ کو میدانِ کارزار سے لکھے آخری خط میں بھی کیا :

” میں اسلام اور اسلامیانِ پاکستان کی خاطر جان کی بازی لگانے کو ترجیح دیتا ہوں، بجائے اس کے کہ ہندوستان کا غلام بنوں۔ ہم نے جان توڑ کر لڑنے کا عہد کیا ہوا ہے۔ ہم دشمن کا اپنی سرحدوں پر، اپنی گلیوں اور مکانوں میں ڈٹ کر مقابلہ کریں گے لیکن ہار نہیں مانیں گے۔ہمیں دشمن کا غلام بننے کی بجائے مر جانا پسند ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہو سکتا کیونکہ ہم مسلمان ہیں اور مسلمان کو اللّٰہ کا سہارا ہوتا ہے ، وہ کسی سے نہیں ڈرتا۔ ہم قدم قدم پر دشمن کا مقابلہ کریں گے اور ایک انچ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ میں چاہتا ہوں کہ تم بہادرانہ انداز میں خط لکھا کرو کیونکہ تم ایک سپاہی کی بیوی ہو!”

is pursuing her degree in medicine and a free lance writer.

Leave A Reply