انتہا پسندی۔۔۔ مضمرات اور ممکنہ حل

0

انتہاپسندی ایک عالمی مسئلہ ہے۔ دوسرے ممالک کی طرح پاکستان بھی اس کی لپیٹ میں ہے۔ مذہبی، سیاسی،لسا نی، معاشی اور سماجی انتہاپسندی پاکستان میں موجود ہے اور اس کے وجود کو برُی طرح متاثر کر رہی ہے ۔ انتہا پسند گروہ عجیب و غریب اصول پر کار بند ہے۔اگر تم میرے ساتھ نہیں تو تم ضرور میرے مخالف ہو، اور اگر تم مجھ سے اختلاف رکھتے ہو تو تم میرے دشمن ہو ، اگر تم میرا حکم نہیں مانتے تو تمہیں جینے کا کوئی حق نہیں، دراصل یہ ہے انتہا پسندانہ سوچ ۔ ملک میں بڑھتے ہوئے انتہا پسندی کے واقعات نے ہر صاحبِ عقل اور محب وطن شہری کو یہ سوچنے پر مجبورکر دیا ہے کہ آخر بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کی وجوہات کیا ہیں؟ بنیادی ضروریات سے محرومی ، انصاف کی عدم فراہمی ، غربت ، جہالت اور ا حساسِ محرومی ، ناانصافی ، مذہب کی غلط تشریح ، سیاسی و معاشرتی عدم مساوات اور عدم برداشت بڑھتے ہوئے انتہاپسندی کے واقعات کی سب سے بڑی وجوہات ہیں۔
پاکستان کو جہاں اللہ نے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ وہیں ایک نعمت اس کی نوجوان نسل ہے جو  آبادی کُل 60% پر مشتمل ہے۔ اگر ان نوجوانوں کی صلاحیتوں کو مثبت طور پر نکھارا گیا تو یہ پاکستان کے روشن مستقبل کے ضامن ہیں اور اگر یہ نوجوان نسل بھٹک گئی تو بحثیت قوم ہمارے لیے باعثِ تشویش ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ملک کے نوجوان ہی اسکا بہترین سرمایہ ہوتے ہیں اور اس کے روشن مستقبل کے ضامن ہوتے ہیں۔ ملک کی تعمیر و ترقی کا کارواں اِنہی کی باصلاحیت اور پرُ اعتماد شخصیتوں کی بدولت رواں دواں رہتا ہے۔ لیکن یہ اسی صورت میں ممکن ہے جبکہ دورانِ تعلیم طلباء میں باشعور اور ذمہ دارانہ شہری کے اوصاف پیدا کئے جائیں۔
نوجوانوں کی بہترین راہنمائی اِن سے ملک کے مفادات میں بہت سے کام لے سکتی ہے جہالت جو انتہاپسندی کی سب سے بڑی وجہ ہے نوجوان اس کے خاتمے کے لیے جہاد کر سکتے ہیں اور اپنے ناخواندہ بہن بھائیوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کر سکتے ہیں۔ اسکی ایک روشن مثال پاکستان کا ایک نوجوان روحیل ورندہے جو’سلم سکول ‘کے نام سے غریب بچوں کو مفت تعلیم دے رہا ہے۔ اور جہالت کے اندھیرے مٹا نے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
جب نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کو اُجاگر کرنے کے مواقع نہیں ملتے تو وہ فطری طور پر غلط راستے کی طرف چل نکلتے ہیں۔ اساتذہ کو بھی نوجوانوں کی ذہنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے سکول و کالج و یونیورسٹی کی سطح پر مختلف قسم کی انجمنوں کا اجرا کرنا چاہیے ۔تاکہ طالب علم اِن انجمنوں میں اپنی ذہنی صلاحیتوں کو جلاِ بخشتے ہوئے آگے سے آگے بڑھیں ۔ حکومتِ پاکستان کو چاہیے کہ نوجوانوں کو ایسے فورمز مہیا کرے جہاں وہ اپنے ذہنوں میں اٹھنے والے سوالات کے جوابات حاصل کر سکیں۔ اِس سلسلے میں والدین کا کردار بھی اہم ہے انہیں بھی اپنے بچوں کے ذہنوں میں ابھرنے والے سوالات کا جواب دینا چاہیے تاکہ کوئی دہشت گرد تنظیم انہیں بہکا نہ سکے۔
ہمیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی قومی اقدار کو پہچانیں کیونکہ اس کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ تنقید برائے تنقید کے طریقے کو بدلنا ہوگا اور اپنے ملک کی ذمے داری خود لینا ہوگی ۔ انتہاپسندی کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔کیونکہ
یہ وطن ہمارا ہے
ہم ہیں پاسبان اِسکے

ہمارے دشمن ہماری نوجوان نسل کو بہکانے کی کوشش میں کار فرما ہیں اور وہ ہر طرح کے ذرائع ابلاغ سے موجودہ نسل کو اِنکی پرانی تہذیب سے برگشتہ کرنے میں محو ہیں۔ ہماری بقاء اور ترقی کا راز اس میں ہے کہ ہم قرآن کو اپنا ضابطۂ حیات بنائیں اور دشمنوں کے مذموم مقاصد کو خاک میں ملا دیں۔افسوس اس بات پر ہے کہ ہمارے تعلیمی ادارے تعلیم یافتہ نوجوان پیدا کرنے کی بجائے ہجوم پیدا کر رہے ہیں۔  اِسکی مثال مشعال خان قتل کیس ہے کہ کیسے ایک ہجوم آیا اور ایک بے گناہ کو مار گیا۔ تشویش اِس بات پر ہے کہ کیسے پڑھا لکھا طبقہ دہشت گرد ی کی کار وائیوں میں ملوث ہو رہا ہے۔ حال ہی میں جامعہ کراچی سے ایک پر وفیسر عبید اللہ خان کو اس کے دو ساتھی پروفیسر عبد الرشید اور نصیر احمد اختر کے ہمراہ یونیورسٹی میں داعش کا نیٹ ورک چلانے کے جرم میں گرفتار کیا گیا ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں تعلیم کو صرف روزگار کا وسیلہ سمجھا جاتا ہے۔اورنوجوانوں کی اکژیت بھی اعلیٰ ملا ز متوں اور ذاتی آرام وراحت کے لیے تعلیم حاصل کرتی ہے۔ یہ درست ہے کہ پیٹ کی آگ ہر کسی نے بُجھانی ہے۔ روزی کی تلاش ہر انسان کو ہے لیکن ملک کے مفا د کو داؤ پر لگا کر نہیں۔یہاں سب سے پہلے نوجوانوں میں حب الوطنی کے جذبے کو اجا گر کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ نوجوانوں کو یہ سوچنا ہو گاکہ صرف دولت سمیٹنے کے لیے علم کا حصول وسیع تر قومی مفاد کے منافی ہے۔نوجوانوں کو ہر حال میں ملکی بقاء کو پیشِ نظر رکھنا ہو گا۔اور مشکل سے مشکل حالات میں بھی ملکی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دینا ہو گی۔ ہمیں بطور قوم نوجوانوں سے یہ توقع کرنی چاہیے کہ وہ صرف ڈگری یافتہ ہی نہ ہوں بلکہ ایک مفید اور کار آمد پاکستانی بھی ثابت ہوں۔

یہ خاکِ وطن ہے جاں اپنی ، اورجان تو سب کو پیاری ہے

Comments

comments

Leave A Reply