!میرے خاک و خوں سے تُو نے یہ جہاں کیا ہے پیدا

0

یہ 1971ء کا ذکر ہے، جب وہ سیالکوٹ میں متعین تھے۔ ان کے گھر والوں نے انہیں خط کے ذریعے اطلاع دی کہ ان کے ہاں بیٹے کی ولادت ہوئی ہے۔ یہ خبر سُن کر پوری یونٹ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ سب کی فرمائش تھی کہ اس خوشی کے موقع پر ان سب کا منہ میٹھا کروایا جائے، چنانچہ انہوں نے اپنی یونٹ کے لوگوں سے وعدہ کر لیا کہ ان سب کی دعوت کے ذریعے خاطر تواضع کی جائے گی۔ مگر اس دعوت سے قبل ہی بھارت کی جانب سے جنگ چھیڑ دی گئی۔ گو کہ ان کے آفیسر کی جانب سے انہیں پیشکش کی گئی کہ وہ اپنے نومولود بیٹے کو دیکھ آئیں، مگر ان کا جواب تھا کہ پہلے وہ جنگ لڑیں گے، اس کے بعد اپنے بیٹے کو دیکھ آئیں گے۔ مگر اپنے لختِ جگر کو دیکھنے سے پہلے ہی وہ منصبِ شہادت پر فائز ہوگئے اور اپنے بیٹے کو نہ دیکھ سکے!

وہ 18 جون 1949ء کو ضلع راولپنڈی کی تحصیل گجر خان کے گاؤں ڈھوک پیر بخش میں پیدا ہوئے۔ان کا نام محمد حُسین رکھا گیا۔ ان کے والد ایک معمولی زمیندار تھے، جبکہ خاندان کے بیشتر افراد فوج سے منسلک تھے۔ ان کے نانا فوج میں ملازم تھے اور پہلی جنگِ عظیم میں دادِ شجاعت دینے پر انہوں نے چار تمغے حاصل کئے۔یہ محمد حسین کے بچپن کا زمانہ تھا جب وہ اپنے نانا کو ملنے والے تمغے سینے پر سجائے اپنے گاؤں کے بچوں کو متاثر کیا کرتے تھے۔

اوّلاً انہیں گھر پر قرآن پاک پڑھایا گیا اور پھر موضع جھنگ پھیرو کے پرائمری اسکول میں داخل کروا دیا گیا۔ یہاں سے پانچ جماعتیں پاس کرنے کے بعد وہ دیوی ہائی اسکول میں داخل ہوئے۔ بورڈ کے میٹرک کے امتحان میں بیٹھے مگر ایک مضمون میں فیل ہو گئے۔ اسی دوران 1965ء کی جنگ شروع ہو گئی اور وہ گھر والوں کے اصرار کے باوجود دوبارہ امتحان دینے پر راضی نہ ہوئے۔

1966ء میں جاتلی کے مقام پر فوج کی عام بھرتی شروع ہو گئی، جس کی اطلاع پاتے ہی محمد حسین اپنے ایک بچپن کے دوست کے ہمراہ جاتلی ریسٹ ہاؤس میں ریکروٹنگ آفیسر کے سامنے پیش ہو گئے، دونوں ہی کو فوج کے لئے منتخب کر لیا گیا۔ ٹریننگ کے لئے انہیں پہلے نوشہرہ اور پھر سیالکوٹ بھیج دیا گیا۔ ٹریننگ کے بعد وہ آرمرڈ کور کی “20 لانسر” سے بحیثیت ڈرائیور منسلک ہوئے اور آخری وقت تک سیالکوٹ میں ہی تعینات رہے۔

وہ اسکول کے زمانے میں کبڈی اور والی بال شوق سے کھیلا کرتے تھے، فوج میں آنے کے بعد باسکٹ بال بھی کھیلنے لگے۔ فوج کی ملازمت کے دو سال بعد ان کی شادی کر دی گئی۔ ان کی ایک بیٹی اور ایک بیٹا ہے.

انہیں فوج میں ملازمت کرتے ہوئے پانچ برس کا عرصہ ہوا تھا کہ 1971ء کی پاک بھارت جنگ شروع ہو گئی۔ گو کہ وہ محض ایک ڈرائیور تھے جن کی جنگ میں ذمہ داری یہ تھی کہ وہ بمباری سے بچتے ہوئے ایک جانب اپنی گاڑی میں بیٹھے رہیں اور اگلے احکامات کا انتظار کریں، مگر اس جنگ میں انہوں نے رضاکارانہ طور پر عملی لڑائی میں حصہ لیا، دشمن کے 16 ٹینک تنِ تنہا تباہ کئے اور جرأت و مردانگی کا وہ مظاہرہ کیا جو پاکستان کی جنگی تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہیں۔

3 دسمبر 1971ء کو وہ شکر گڑھ سیکٹر میں موجود تھے، انہوں نے پوری رات اپنے ساتھی مجاہدین کو رضاکارانہ طور پر اسلحہ سپلائی کرنے اور مورچوں میں ہاتھ بٹانے میں گزارا۔

5 دسمبر 1971ء کو جب ان کی لانسر رجمنٹ کو دشمن کے مقابل آنے کے احکامات موصول ہوئے تو سوار محمد حسین اپنے کمانڈنگ آفیسر کرنل طفیل محمد کے پاس اس درخواست کے ساتھ گئے کہ انہیں رضاکارانہ طور پر اسلحہ فراہم کرنے کی ڈیوٹی سونپ دی جائے کیونکہ یہ بات ان کیلئے ناقابل برداشت ہے کہ ان کے ساتھی تو محاذ پر دشمن سے برسرِپیکار رہیں مگر وہ ایک طرف خاموش بیٹھے رہیں، چنانچہ ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے انہیں ایک سٹین گن دے دی گئی۔ وہ فوج کے لڑاکا اور گشتی دستوں کے ہمراہ جاتے رہے۔ ان کے کمانڈنگ آفیسر کو حکم ملا کہ نالہ ڈیک اور بہیں کے درمیان چودہ میل میں پوزیشن مضبوط کر لیں۔ یہ کام اگرچہ مشکل تھا مگر پھر بھی پاک فوج کے جوانوں نے کر دکھایا۔ جنگی حکمت عملی کا تقاضا تھا کہ دشمن کو اس علاقے سے دور رکھا جائے، لہٰذا 5 سے 9 دسمبر تک دشمن کی ہر پیش قدمی کو ناکام بنایا جاتا رہا۔

9 دسمبر 1971ء کو سوار محمد حسین دشمن کی پوزیشن پتہ چلانے میں مصروف رہے، ہرڑخورد گاؤں میں انہوں نے دشمن کو مورچے کھودتے دیکھ لیا۔ دشمن سے انتقام کا جنون ان پر ایسا سوار ہوا کہ انہوں نے اکیلے ہی ایک مورچے سے دشمن پر فائرنگ کر کے اس کے بہت سے سپاہی ہلاک کر دئیے۔ واپس آ کر جب انہوں نے یہ روداد اپنے کمانڈنگ آفیسر کے گوش گزار کی تو سب بہت متاثر ہوئے۔ اس روز ان کی بتائی گئی دشمن کی پوزیشن سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاک فوج نے دشمن کو بھاری جانی اور مالی نقصان پہنچایا۔ سرکاری اطلاع کے مطابق سوار محمد حسین نے اکیلے، دشمن کے سولہ ٹینک تباہ کئے۔

اس روز ہرڑخورد اور ہرڑکلاں کے سامنے ڈھائی ہزار گز کے علاقے میں پاکستانی فوج کے تین سکواڈرن موجود تھے، جنہوں نے دشمن کو ناکوں چنے چبوا دئیے تھے، درمیانی سکواڈرن میں سوار محمد حسین موجود تھے۔ پاک فوج کے لئے ضروری تھا کہ وہ نالہ چو اور اس سے ملے ہوئے دو نالوں پر مورچہ بندی کریں، کیونکہ دشمن کا زور اس طرف بڑھ رہا تھا۔ چونکہ اس علاقے میں بارودی سرنگیں نہیں بچھی ہوئی تھیں لہٰذا دشمن نے ہرڑخورد کی طرف پیش قدمی شروع کر دی اور اس علاقے میں پوزیشن مضبوط کر لی۔

ایک بار سوار محمد حسین کے ایک دوست نے ان کے پاس دو سو روپے امانتاً رکھوائے، ان کے والد کو کچھ رقم کی ضرورت پڑی، انہوں نے جب محمد حسین سے رقم کا تقاضا کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ پیسے ان کے دوست کی امانت ہیں، وہ ان میں سے ایک پیسہ بھی نہیں دے سکتے کیونکہ وہ امانت میں خیانت ہوگی، البتہ ان کے پاس ذاتی پچاس روپے ہیں جو وہ اپنے والد کو بخوشی دے سکتے ہیں۔ اپنی ذاتی زندگی میں اس قدر امانت دار سوار محمد حسین نے اپنے فرائض سے عہدہ برآ ہوتے ہوئے بھی اتنی ہی امانت داری کا مظاہرہ کیا۔

نالہ چو میں پانی موجود تھا اور دشمن کی نقل و حرکت کا پتہ چلانا تقریباً ناممکن تھا۔ اس موقع پر بھی سوار محمد حسین نے ناقابل یقین مردانگی کا مظاہرہ کیا اور اپنے مورچے سے نکل کر دشمن کے مورچوں تک پہنچ گئے اور دشمن کی پوزیشن کا جائزہ لے کر واپس آ گئے۔

10 دسمبر 1971ء کو علی الصبح وہ اپنے سیکنڈ اِن کمانڈ آفیسر کے پاس پہنچے اور انہیں دشمن کے مورچوں اور پوزیشن سے آگاہ کیا۔ چنانچہ ان کی اطلاع کی روشنی میں پاک فوج نے دشمن پر ہلّہ بول دیا۔ حملہ اس قدر شدید اور غیر متوقع تھا کہ دشمن کے پاؤں اکھڑ گئے۔ سوار محمد حسین بھاگ بھاگ کر اپنے ٹینکوں اور ریکال لیس رائفل کے توپچیوں کو دشمن کے ٹینکوں اور مورچوں کی نشاندہی کرواتے رہے، نتیجتاً پاک فوج دشمن پر قہر بن کر ٹوٹتی رہی، سوار محمد حسین کا جذبہ ان کے ساتھیوں کا لہو گرماتا رہا، آخر وہ لمحہ آن پہنچا جب وہ اپنے ریکال لیس رائفل کے توپچی کو دشمن کا ٹھکانہ بتا رہے تھے کہ دشمن کی مشین گن کی گولیوں کی بوچھاڑ آئی اور سوار محمد حسین کا سینہ شق کر گئی۔ انہوں نے جامِ شہادت نوش کیا، لیکن ان کی جرأت اور دشمن کی نقل و حرکت کے بارے میں دی گئی اطلاعات کے سبب پاک فوج نے دشمن کو پسپائی پر مجبور کر دیا۔

جنگ کے بعد اس وقت کے صدرِ مملکت ذوالفقار علی بھٹو اگلے مورچوں کے معائنے کے لئے گئے تو پاک فوج کے کمانڈر اِن چیف نے انہیں سوار محمد حسین کی شجاعت کی روداد سنائی۔ کرنل امان اللّٰہ کی تجویز پر صدرِ مملکت نے سوار محمد حسین شہید کو نشانِ حیدر دینے کا اعلان کیا۔ وہ بچہ جو اپنے نانا کے تمغے سینے پر سجائے اپنے دوستوں کو متاثر کیا کرتا تھا، اس نے اپنی جان اللّٰہ کی راہ میں دے کر شہادت کا تمغہ پا لیا تھا، اور اپنی بہادری اور شجاعت سے اپنے ادارے اور اپنی قوم کو متاثر کر دیا تھا۔ سوار محمد حسین نشانِ حیدر حاصل کرنے والے پہلے “جوان” ہیں، اس سے پہلے یہ اعزاز صرف آفیسرز کے حصے میں آیا تھا۔

ان کے کمانڈنگ آفیسر نے انہیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا:

“شہید واقعی نشانِ حیدر کے مستحق تھے، ان کی مردانگی، بےپناہ جرأت اور فرض شناسی نے دشمن کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا تھا، حتٰی کہ ہرڑخورد کی فتح کا سہرا بھی انہی کے سر ہے۔”

is pursuing her degree in medicine and a free lance writer.

Leave A Reply