غریبِ شہر تر ستا ہے اِک نوالے کو

0

تپتی دھوپ، بھوک کی شدت،گردو نواح میں طلباء و طالبات کا ہجو م، ہر کوئی خوش گپیوں میں محو کھانا تناول کر نے میں مگن تھا۔ اتنے میں گرم گرم کھانا میرے سامنے پیش کیا گیا جس کا آرڈر میں نے کچھ دیر پہلے دیا تھا۔ کھانے کے لئے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ میری نظر کوڑے سے چاول چنتے ایک معمر شخص پر جا کر ٹھہر گئی ۔کافی دیر اْس شخص کو دیکھتی رہی مگر اْ س وقت میرے ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا جب وہ شخص ایک کونے میں بیٹھ کر وہ چاول کھا نے لگا۔ میں نے اضطراب میں اپنے گر دو نواح میں نظر دوڑائی مگر یہ دیکھ کر انتہائی مایوسی ہوئی کہ مستقبل کے معمار کھانا کھانے میں مصروٖف تھے۔ میں جب اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکی تو میں کھانا لے کر اْس شخص کی جانب بڑھی، جب کھانے کی پلیٹ اْس کی جانب بڑھائی توعجیب حیران کن نظروں سے اْس نے مجھے دیکھا گویا کہ حیران ہو کہ آج اتنی بھیڑ میں اْس کی جانب کسی نے توجہ کیسے دی؟ اْس کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو ، یہ سوچ کر، میں اْس کے ساتھ سیڑھیوں پر ہی بیٹھ گئی۔اور اْس شخص سے زندگی کے شب وروز سے متعلق بات چیت کرتی رہی۔اْس شخص نے کھانے کی ایک پلیٹ کے عوض نجانے کتنی دعائیں دے ڈالیں مجھے۔اْس کی ایک بات نے مجھے ہلا کر رکھ دیا کہ وہ یہاں کچڑے میں سے کھانا چننے کا کام دس سال سے کر رہا ہے۔لوگ یہاں آتے ہیں، لذیذ کھانا کھاتے ہیں اور چلے جاتے ہیں مگرآج تک کسی نے اْس کی طرف توجہ نہ دی۔اتنا کہنا تھا کہ وہ شخص رو پڑا۔میرے پاس الفاظ نہیں تھے کہ میں اْس شخص کو دلاسہ دے سکوں۔معاشرے کی بے حسی پر رونا آرہا تھا۔

گیلپ پاکستان کے تازہ ترین سروے کے مطابق ۳۸ فیصد پاکستانیوں میں غریبوں کی مدد کا جذبہ کم ہو گیاہے۔اخبارات روز ایسی خبروں سے بھرے پڑے ہیں کہ غربت سے تنگ آکر ایک شخص نے خودکْشی کر لی۔آج کل کے مشینی دور میں لوگ بچے برائے فروخت کا اشتہار پڑھ کر بآسانی گزر جاتے ہیں۔عبدالستار ایدھی کی وفات کے بعد سے ایدھی فاوْنڈیشن شدید مالی بحران کا شکار ہے۔پاکستان کی ۶۰ فیصد آبادی سطحِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔لیکن لوگوں کو یہ خبریں پڑھ کراور ایسے واقعات دیکھ کرکوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ ہر کوئی اپنی زندگی میں محو ہے اور ہم اپنی اخلاقی اقدار کھو بیٹھے ہیں۔ ہم تونبیِ برحق کے ماننے والے ہیں جو کبھی کسی سائل کو خالی ہاتھ نہ لوٹاتے تھے۔جو غریبوں، لاچار اور مجبور لوگوں کی داد رسی کر تے تھے۔ اللٓہ اور اس کے رسولﷺ غریبوں کی مدد کا حکم دیتے ہیں۔مگر آج کل کے جدید دور میں ہم سائنس و ٹیکنالوجی میں تو آگے بڑھ رہے ہیں لیکن اِنسانی اِقدار میں کہیں بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔اپنے لئے تو مہنگی اور پائیدار چیز پسند کرتے ہیں لیکن اس کے برعکس اپنے ملازم کے لئے سستی اور ناپائیدار چیز پسند کر تے ہیں۔

غریبِ شہر کے تن پرلباس باقی ہے
امیرِ شہر کے ارماں ابھی کہاں نکلے

ہم میں بطور قوم احساس اور ہمدردی کا جذبہ کم ہو رہا ہے۔ہر چیز کا ذمہ دار حکومتِ وقت کو ٹھہرانے کی بجائے ہمیں بطور قوم وسائل سے محروم افراد کے ساتھ محبت اور شفقت کا رویہ اپنانا ہوگا۔اور ان کی بھرپور امداد کرناہو گی۔اپنی خوشیوں میں اس محروم طبقے کو بھی یاد رکھنا ہو گا۔نوجوان جو اس قوم کا سرمایہ ہیں اْن کو ڈگری یا فتہ ہونے کے ساتھ ساتھ خود کو ملک کا ایک کارآمد شہری بھی بنانا ہو گا۔روز کے جیب خرچ میں سے کچھ رقم سے اپنے غریب بہن بھائیوں کی مدد کرنا ہو گی تاکہ اْن کی مشکلا ت کچھ ۔کم ہو سکیں۔

 “اور جو بھلی چیز اللٓہ کی راہ میں دو گے اس کا فائدہ خود پاوْ گے۔ اور تم جو کچھ خرچ کروگے تمہیں اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔اور تمہارا حق نہ مارا جائے گا۔ تم جو مال خرچ کرو گے اللٓہ اسے جاننے والا ہے۔” (القران)

Leave A Reply